English
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "On the day of Uhud, my aunt brought my father to bury him in our cemetery. Then the caller of the Messenger of Allah (ﷺ) announced, 'Return the martyrs to their places of death.'" 2
العربية
Typed, pending editorial approval
٢١٥٩ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهُ فِي مَقَابِرِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ﷺ : رُدُّوا2 الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَلَفْظُهُ لِلتَّرْمِذِيِّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2533
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوۂ احد میں میرے
والد شہید ہوئے اور ابھی دفن نہیں کئے گئے تھے کہ) میری پھوپھی میرے والد کو وہاں سے منتقل
کر کے، ہمارے قبرستان میں دفن کرنے کے لئے لے آئیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے منادی نے ندا دی کہ شہیدوں کو ان کے شہید ہونے کی جگہ واپس لے جاؤ (تاکہ ان کو وہیں
دفن کر دیا جائے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1717 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3165 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: "Return the martyrs to their places of death." It is recommended to bury the martyr or deceased in the place where they died, in the cemeteries of those people. However, if they are transported before burial for a distance of one or two miles, there is no harm in it. This is based on the report that Sa'd ibn Abi Waqqas died in a village four Farsakhs (about 12 miles) from Madinah and was carried on the shoulders of men to Madinah. This is the summary of what is mentioned in Sharh Al-Munyah and Fath Al-Qadeer.
Note 2
(۲) قوله: ردوا القتلى إلى مضاجعهم ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات فيه في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن قدر ميل أو ميلين فلا بأس به؛ لأنه نقل عن سعد بن أبي وقاص أنه مات في ضيعة على أربعة فراسخ من المدينة، فحمل على أعناق الرجال إليها هذا حاصل ما في شرح المنية» و«فتح القدير».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ میت کو جہاں مرا ہو، اسی مقام کے قبرستان میں دفن کرنا چاہئے، دوسرے مقام میں اس کو منتقل نہیں کرنا چاہئے، اگر منتقل کرے بھی تو ایک دو میل سے کم فاصلہ میں منتقل کرنا چاہئے یہ بھی خلاف اولیٰ ہے اور ایک دو میل سے زائد دور دفن کے لئے لے جانا مکروہ ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد کو جہاں یہ شہید ہوئے تھے، وہیں دفن کرنے کا حکم دئے اور دفن کے بعد قبر کو کھود کر میت کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جانا ہر حالت میں ناجائز ہے، ہاں اگر کسی آدمی کی حق تلفی ہوئی ہو تو البتہ میت کا دفن کے بعد نکالنا جائز ہے، مثلاً وہ زمین جس میں اس کو دفن کیا گیا ہے وہ دوسرے کی ملک ہو اور وہ اس کے دفن پر راضی نہ ہو۔ (یہ مضمون عالمگیری اور رد المحتار سے لیا گیا ہے۔)12