اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2552
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کو سکرات شروع ہوئی تو
وہ اپنے فرزند سے ارشاد فرمائے (سنو بیٹا!) جب میں مر جاؤں تو میرے جنازہ کے ساتھ نوحہ کرنے
والی عورتوں کو نہ رکھنا اور نہ میرے جنازہ کے ساتھ آگ لے چلنا (یہ زمانہ جاہلیت کے رواج ہیں
اسلام میں ان کو برا سمجھا گیا ہے) حضرت عمرو بن عاص پھر فرمائے کہ جب تم میرے دفن کا ارادہ کرو
تو بہ سہولت قبر میں مٹی ڈالو اور دفن کے بعد میری قبر کے اطراف تم لوگ (تلقین یعنی ذکر کرتے اور
قرآن پڑھتے ہوئے) اتنی دیر تک ٹھہرے رہو جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم
کیا جا سکے تاکہ میں (اس عرصہ میں تم لوگوں کو قبر پر تلقین ذکر کرتے اور قرآن پڑھتے ہوئے کھڑے
ہونے سے) انس اور اطمینان حاصل کر سکوں اور تمہارے تلقین کی وجہ سے وہ جواب مجھے یاد آ جائے
جو مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتوں کو دینا ہوگا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 121 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.