Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2255

Chapter on What Zakat is Obligatory Upon

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on What Zakat is Obligatory Upon

Zujajat al-Masabih 2255Volume 1

English

Hammad ibn Salamah said: I said to Qays ibn Sa’d: “Write for me the letter of Abu Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm.” So he wrote it for me on a piece of paper and brought it to me, informing me that he had taken it from the book of Abu Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm. He informed me that the Prophet (ﷺ) wrote it to his grandfather Amr ibn Haram (may Allah be pleased with him) regarding the obligations of charity for camels. It stated: “When they reach ninety, the charity is two three-year-old female camels until they reach one hundred and twenty. If they exceed that, then for every fifty camels, the charity is one three-year-old female camel, and the remainder is calculated from the beginning of the obligation. For fewer than twenty-five camels, the charity is sheep: one sheep for every five camels.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٥٥ - وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ: اكْتُبْ لِي كِتَابَ أَبِي بَكْرٍ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزَمٍ، فَكَتَبَهُ لِي فِي وَرَقَةٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْ كِتَابِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْن حَزَمٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَتَبَهُ لِجَدِّهِ عَمْرِو بْنِ حَرَم الله فِي ذِكْرِ مَا تُخْرِجُ مِنْ فَرَائِضِ الْإِبِلِ، فَكَانَ فِيْهِ: أَنَّهَا إِذَا بَلَغَتْ تِسْعِيْنَ فَفِيْهَا حِقَّتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِيْنَ حِقَّةٌ، فَمَا فَضُلَ فَإِنَّهُ يُعَادُ إِلَى أَوَّلِ فَرِيضَةِ الْإِبِلِ، فَمَا كَانَتْ أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِيْنَ فَفِيْهِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ فِي شَرْحِ مَعَانِي الْآثَارِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2640
حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ مجھے ابوبکر بن محمد ابن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہم کی وہ تحریر لکھ دیجئے (جس میں اونٹوں کی زکات سے متعلق احکام ہیں) تو وہ ایک کاغذ پر وہ پوری تحریر لکھ کر میرے پاس لائے اور کہا کہ اس تحریر کو انہوں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کی تحریر سے نقل کیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ اس تحریر کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر کے دادا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھوا کر دیا تھا اور اس میں اونٹوں کی زکات کے احکام درج تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم نامہ میں یہ صراحت موجود تھی کہ جب کسی کے پاس 90 اونٹ ہو جائیں تو 91 سے لے کر 120 اونٹوں تک دو حقے (یعنی تین تین سال کی دو اونٹنیاں زکات میں ادا کرنا) واجب ہے (اور جب اونٹ 120 سے بڑھ جائیں تو 120 سے 149 اونٹوں کی زکات کی تفصیل ابھی اوپر عمرو بن حزم کی حدیث کے تحت گزر چکی ہے اور جب اونٹوں کی تعداد بڑھ کر 150 ہو جائے تو ہر پچاس پر ایک حقہ کے حساب سے تین حقے زکات میں ادا کرنے ہوں گے اور جب اونٹوں کی تعداد 150 سے زائد ہو جائے تو اونٹوں کی زکات مذکورہ ابتدائی طریقہ پر ادا کی جائے گی وہ اس طرح سے کہ 150 پر تین حقے اور اس کے بعد) مزید 25 اونٹوں سے کم یعنی 24 تک ہر پانچ پر ایک ایک بکری زکات میں دی جائے گی۔ اس کی روایت طحاوی نے شرح معانی الآثار میں کی ہے۔