العربية
Typed, pending editorial approval
٢٢٩١ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيْرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا عُتِقَتْ فَخُيَّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ : الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَدَخَلَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَالْبُرْمَةُ تَفُوْرُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْرُ وَأُدْمُ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمُ؟» قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ: «هُمْ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ. رَوَاهُ مُسْلِمُ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مُقطَّعًا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1493 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(دوسرا حکم یہ تھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بَرِیرَہ کے آزاد کرنے کے موقع پر) ارشاد فرمائے کہ حق ولاء اسی کو حاصل ہے جس نے اس کو آزاد کیا (یعنی غلام یا باندی کو کوئی آزاد کر دے اور اس کے بعد ان کے پاس مال و دولت آ جائے پھر وہ مر جائیں اور ان کا کوئی حقیقی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا ہی ان کا وارث ہوگا۔ اس حق کو حق ولاء کہتے ہیں)۔ جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور نور الانوار میں مذکور ہے۔12 (تیسرا حکم یہ تھا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دفعہ تشریف لائے اس وقت ہانڈی میں گوشت پک رہا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے روٹی اور گھر کا دوسرا سالن پیش کیا گیا تو حضور فرمائے کیا میں ہانڈی میں گوشت پکتا ہوا نہیں دیکھ رہا ہوں (یہ مجھے کیوں نہیں دیا جاتا) عرض کیا گیا کہ جی ہاں گوشت پک رہا ہے لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا تھا۔ اور آپ چونکہ صدقہ نہیں کھاتے ((اس لئے آپ کو نہیں دیا گیا) اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (وہ گوشت) جو بریرہ کو دیا گیا تھا وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے (بریرہ کی جانب سے) ہدیہ ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی چیز حاجتمند کو بطور زکات یا صدقہ دی جائے اور وہ شخص کسی ایسے شخص کو وہ مال دیدے جس پر زکات حرام ہے تو اس کو مال کا لے لینا جائز ہے کیونکہ ملک کی تبدیلی اس چیز کے وصف کی تبدیلی کا سبب ہے۔) (جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور نور الانوار میں مذکور ہے۔12۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔