اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2736
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک
دفعہ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ایک
ڈھیر لگا ہوا تھا (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرمائے کہ یہ کیا ہے اے بلال! تو حضرت
بلال نے عرض کیا: یہ کھجوریں، جس کو میں نے آئندہ کے لئے جمع کیا ہے (یہ سن کر) آپ ارشاد
فرمائے: اے بلال! کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ یہ (کھجور کا ڈھیر) کل قیامت کے دن دوزخ کی
آگ کا دھواں بن کر تم کو آ لپیٹے (اور مزید یہ بھی فرمائے) اے بلال! خرچ کرتے جاؤ اور عرش
(عظیم) کے مالک سے افلاس اور فقر کا اندیشہ مت رکھو (یہ ارشاد مقام توکل اور حق سبحانہٗ و
تعالیٰ پر کمال اعتماد کی تعلیم کے لئے ہے، ورنہ اہل و عیال کے لئے ایک سال کا مال جمع
کرنا جائز ہے (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)
اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔