English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever spends a pair in the way of Allah will be called from the gates of Paradise: ‘O servant of Allah, this is good.’ Paradise has gates, and whoever was among the people of prayer will be called from the gate of prayer. Whoever was among the people of jihad will be called from the gate of jihad. Whoever was among the people of charity will be called from the gate of charity. Whoever was among the people of fasting will be called from the gate of Ar-Rayyan.” Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: “O Messenger of Allah, is there anyone who will be called from all these gates?” He said: “Yes, and I hope that you will be among them.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٥٧ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابُ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ». فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلَّهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَأَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنَ مِنْهُمْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2762
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص راہ خدا میں کسی مال کا جوڑا دے (مثلاً دو بکرے یا دو گھوڑے یا
دو روپیہ) دے تو اس کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں پس جو
شخص نمازی (یعنی زیادہ نوافل پڑھنے والا) ہوگا تو اس کو جنت کے ”بَابُ الصَّلٰوةِ“ (نماز کے
دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی شخص جہاد کرنے والا یعنی راہ خدا میں بہت لڑنے والا ہوگا تو
اس کو ”بَابُ الْجِهَادِ“ (جہاد کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو شخص بہت خیر خیرات کرنے
والا ہوگا تو اس کو ”بَابُ الصَّدَقَةِ“ (صدقے کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو شخص کثرت
سے روزے رکھنے والا ہوگا اس کو ”بَابُ الرَّيَّانِ“ (پیاس بجھانے والا دروازہ) سے بلایا جائے گا یہ
سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بظاہر تو اس کی ضرورت نہیں کہ سب دروازوں
سے (بیک وقت) کسی کو بلایا جائے (جب کہ اس کو ایک دروازے سے بلایا جا چکا ہو اور وہ جنت میں
داخل ہو چکا ہو لیکن) پھر بھی کیا کوئی ایسا شخص ہوگا جس کو جنت کے ان سارے دروازوں سے بلایا
جائے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں (بعض ایسے لوگ ہوں گے جن کو ان کے کثرت
صلوٰۃ، کثرت صوم، کثرت جہاد، کثرت خیرات کی وجہ سے ان کی تعظیم اور تکریم کے لئے ان کو جنت
کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا) اور مجھے امید ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہوں گے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1897 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1027a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.