Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2418

Chapter on The Virtue of Charity

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on The Virtue of Charity

Zujajat al-Masabih 2418Volume 1

English

Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: I was sitting with the Prophet (ﷺ) when a woman came to him and said, "O Messenger of Allah, I gave my slave girl as charity, and she has died." He said, "Your reward is guaranteed, and her inheritance has returned to you." [Narrated by Muslim] In another narration by Ibn Majah, Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever dies owing fasts, a needy person should be fed on his behalf for each day." In Al-Jawhar Al-Naqi, it is said: "This is a Sahih Hadith." In another narration by Al-Tahawi, Amrah bint Abdur-Rahman said: I asked Aisha, "My mother died owing fasts of Ramadan. Can I fast on her behalf?" She said, "No, but give charity on her behalf for each day to a needy person, which is better than your fasting." In Umdat Al-Qari, it is said: "This is a sahih chain." In a narration by Muslim, she said, "She never performed Hajj. Can I perform Hajj on her behalf?" He said, "Yes, perform Hajj on her behalf."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٨ - وَعَنْ بُرَيْدَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُنِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: «وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا1 عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه عَنِ ابْنِ عُمَرَ(رضي الله عنهما): قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ». قَالَ فِي الْجَوْهَرِ النَّقِي»: هَذَا حَدِيْثُ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّحَاوِيِّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِعَائِشَةَ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ رَمَضَانَ، أَيَصْلُحُ أَنْ أَقْضِيَ عَنْهَا؟ فَقَالَتْ: لَا ، وَلَكِنْ تَصَدَّقِي عَنْهَا مَكَانَ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى مِسْكِينٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِكِ. قَالَ فِي عُمْدَةِ الْقَارِي»: هَذَا سَنَدٌ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، حُجِّيْ عَنْهَا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2829Noor 2830Noor 2831Noor 2832
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیں: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اپنی ماں کی خدمت کے لئے ایک باندی دی تھی اور میری والدہ کا انتقال ہو گیا (اور وہ باندی وراثت میں واپس مجھے مل گئی ہے، اب میں اس کو لے سکتی ہوں یا نہیں؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (باندی دینے کا) ثواب تو تمہیں مل گیا، اور اب وراثت نے اس (باندی) کو تمہارے لئے واپس کر دیا ہے (اس لئے تم اس کو لے لو)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص انتقال کر جائے اور اس پر ایک مہینہ کے روزے قضاء ہوں تو (اس کے ولی کو) چاہئے کہ ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو (دو وقت کا) کھانا کھلائے۔ عمرۃ بنت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور ان پر رمضان کے روزے قضاء رہ گئے ہیں کیا میرے لئے ان کی طرف سے روزوں کی قضاء جائز ہے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: نہیں! بلکہ ان کی طرف سے روزے رکھنے کے بجائے تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ تم ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو خیرات دے دیا کرو (مرقات اور عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے کہ ایک روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو ایک فطرہ کی مقدار غلہ دیا جائے۔ واضح ہو کہ ایک فطرہ کی مقدار دو کیلو گیہوں ہوتے ہیں)۔ اور مسلم کی ایک روایت میں (بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک خاتون نے حاضر ہو کر) عرض کیا کہ میری والدہ نے حج نہیں کیا تھا (اور ان کا انتقال ہوگیا) کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں تم ان کی طرف سے حج کرلو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1149a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Her inheritance has returned to you.

(1) The statement: "Her inheritance has returned to you." The scholars unanimously agreed that if someone gives charity and then inherits it, it is permissible for them. Ibn Al-Tin said: "A group of Zahiris held a strict view and disliked taking it back through inheritance, saying it must be given to a needy person because it becomes the right of Allah." This reasoning contradicts the text. Do you not see that the Messenger of Allah (ﷺ) allowed the giver to take back his charity when it returned to him through inheritance, while Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) was prevented from buying back his charity? These two hadiths establish the permissibility of charity returning to the giver by Allah's decree and the dislike of it returning by the giver's own action. This is the summary of what is in Umdat Al-Qari, Al-Mirqat, and Sharh Ma'ani Al-Athar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ردها عليك الميراث وأجمعوا أن من تصدق بصدقة، ثم ورثها أنه حلال له. وقال ابن التين: وشدت فرقة من أهل الظاهر، فكرهت أخذها بالميراث، وقالوا: يجب صرفها إلى فقير؛ لأنها صارت حقا الله تعالى. وهذا تعليل في معرض النص، فلا يعقل . أفلا ترى أن رسول الله الله قد أباح للمتصدق صدقته لما رجعت إليه بالميراث، ومنع عمر بن الخطاب الله من ابتياع صدقته، فثبت بهذين الحديثين إباحة الصدقة الراجعة إلى المتصدق بفعل الله وكراهة الصدقة الراجعة إليه بفعل نفسه. هذا حاصل ما في عمدة القاري» و«المرقاة» و«شرح معاني الآثار».

Note 1

اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ”الجوهر النقي“ میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

Note 2

اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔ اور عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

Note 3

ف: واضح ہو کہ عبادات کی تین قسمیں ہیں ایک محض مالی جیسے زکات، دوسرے محض بدنی جیسے نماز، اور تیسرے مالی اور بدنی مشترک جیسے حج، پہلی قسم کی عبادات (یعنی محض مالی جیسے زکات) میں اختیار اور ضرورت دونوں حالتوں میں نیابت درست ہے، اس لئے کہ مالی عبادات میں نیابت سے بھی اس کا مقصود کہ اللہ تعالیٰ کے واسطے مال خرچ کیا جائے حاصل ہوجاتا ہے۔ دوسری قسم کی عبادات (یعنی محض بدنی) میں کسی صورت میں (صحت ہو یا مرض) نیابت درست نہیں، اس لئے کہ بدنی عبادات میں اتعابِ نفس (یعنی انسان کا اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنا) مقصود ہے اور نیابت سے یہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ تیسری قسم کی عبادات یعنی مالی اور بدنی مشترک میں عجز کی صورت میں نیابت درست ہے، بشرطیکہ وہ عجز دائمی ہو اور حج فرض ہوچکا ہو، البتہ نفل حج ادا کرنا چاہتا ہو تو قدرت کے باوجود اپنے نائب کے ذریعہ حج بدل کروانا درست ہے۔ نیابت یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے اسی کی عبادات کو ادا کرے۔ (یہ مضمون ہدایہ سے ماخوذ ہے12)۔