Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2444

(چاند دیکھنے کا بیان)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(چاند دیکھنے کا بیان)

Zujajat al-Masabih 2444Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2852Noor 2853
ابوالبختری رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ (کوفہ سے) عمرہ کرنے کے لئے نکلے، جب ہم مقام بطن نخلہ میں ٹھہرے (جو طائف اور مکہ کے درمیان ہے) تو چاند دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے۔ (چاند دیکھ کر) بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری رات کا (چاند) ہے اور بعضوں نے کہا کہ یہ دوسری رات کا (چاند) ہے، پھر ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر ملے تو ہم نے کہا کہ (فلاں رات کو) ہم نے چاند دیکھا، بعضوں نے کہا کہ وہ تیسری رات کا ہے اور بعضوں کا خیال تھا کہ وہ دوسری رات کا ہے (یہ سن کر) حضرت ابن عباسؓ نے دریافت کیا کہ تم نے کس رات میں چاند دیکھا؟ تو ہم نے بتلا دیا کہ فلاں رات کو (ہم نے چاند دیکھا تھا، یہ سن کر) حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (رمضان کو) چاند دیکھنے پر موقوف رکھا ہے پس جس رات کو تم نے چاند دیکھا تھا (رمضان کو) اسی رات سے شمار کرو (یعنی اگر تم نے 29 ویں کو چاند دیکھا تو 29 کو شمار کرو اور اگر تیسویں کو چاند دیکھا تو تیسویں کو شمار کرو کیونکہ چاند دیکھنے کی یہی دو تاریخیں ہیں) ایک دوسری روایت میں ابوالبختری ہی سے ہی اسی طرح مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان کا چاند مقام ذات عرق میں دیکھا اور ایک شخص کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں (مسئلہ) دریافت کرنے کے لئے روانہ کیا (کہ آج چاند کی کونسی تاریخ ہے؟) حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (رمضان کے) چاند دیکھنے کی ایک تاریخ (یعنی 29 ویں شعبان) مقرر فرمائی ہے، پس اگر چاند (ابر کی وجہ سے) نظر نہ آئے تو (ماہ شعبان کے) تیس دن کو پورے شمار کرلو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1088a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1088b (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

We tried to sight the crescent moon.

(1) The statement: "We tried to sight the crescent moon." This means we gathered to sight the crescent moon due to its full visibility, or some of us showed others the difficulty in seeing it or the lack of knowledge about its position. Ibn Al-Humam said: "Pointing to the crescent moon is disliked because it was a practice of the people of pre-Islamic ignorance. However, pointing may be necessary when showing it to others, so the dislike applies when there is no necessity." This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: تراءينا الهلال: أي اجتمعنا لرؤيته الهلال لكمال ظهوره، أو أرى بعضنا بعضا الخفاء نظره أو عدم علمه بمسقط قمره. قال ابن الهمام: الإشارة إلى الهلال تكره؛ لأنه فعل أهل الجاهلية، فيه أنه يحتاج إلى الإشارة عند الإراءة، فتحمل الكراهة على وقت عدم الضرورة. قاله في «المرقاة».