Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2508

Chapter on Voluntary Fasting

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on Voluntary Fasting

Zujajat al-Masabih 2508Volume 1

English

Umm Al-Fadl bint Al-Harith (may Allah be pleased with her) narrated: “Some people argued in her presence on the day of Arafah about whether the Messenger of Allah (ﷺ) was fasting. Some said he was fasting, and others said he was not. She sent him a cup of milk while he was standing on his camel, and he drank it.” 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٠٨ - وَعَنْ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ (رضي الله عنها) أَنْ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ اللهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ لَبَنٍ وَهُمْ وَاقِفُ عَلَى بَعِيرِهِ، فَشَرِبَه1. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2956
ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے (جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) روایت ہے کہ ان کے پاس (عرفات کے میدان میں) چند آدمیوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ دار ہونے سے متعلق اختلاف کیا۔ کسی نے کہا کہ حضور ﷺ روزہ دار ہیں، اور کسی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ دار نہیں ہیں (یہ سن کر) میں نے ایک پیالہ دودھ حضور ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات میں اپنے اونٹ پر تشریف فرما تھے، پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں دودھ پی لیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1988 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1123a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He drank it.

(1) The statement: “He drank it.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Arafah is recommended for non-pilgrims. For pilgrims, if fasting weakens them from standing and supplicating, it is recommended to break the fast. Some say it is disliked, but this is a dislike of a less preferred action (karahah tanzih), as it may detract from more important acts at that time.” This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فشربه وقال الشيخ ابن الهمام: صوم يوم عرفة لغير الحاج مستحب، وللحاج إن كان يضعفه عن الوقوف والدعوات فالمستحب تركه وقيل يكره، وهي كراهة تنزيه؛ لأنه لإخلاله بالأهم في ذلك الوقت. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: شیخ ابن الہمام رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا اس شخص کے لئے مستحب ہے جو حج کی حالت میں نہ ہو اور جو شخص حج کی حالت میں ہو، اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو کمزوری لاحق ہوتی ہو اور وقوف عرفہ اور اس دن کی دعاؤں میں اس کو رکاوٹ ہوتی ہو تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ عرفہ کے دن روزہ نہ رکھے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ حج کرنے والے کے لئے عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن یہ کراہت تنزیہی ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی وجہ سے وہ اس دن کی اہم ترین چیز دعاؤں وغیرہ سے عاجز رہ جاتا ہے اور اس دن دعاؤں میں مشغول رہنا اہم ترین چیز ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)12