English
Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him, "O Abdullah, have I not been informed that you fast during the day and stand in prayer at night?" I said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Do not do that. Fast and break your fast, stand in prayer and sleep, for your body has a right over you, your eyes have a right over you, your wife has a right over you, and your guest has a right over you. Fasting three days of every month is like fasting the entire year. Fast three days of every month and recite the Quran once every month." 1 I said, "I am capable of more than that." He said, "The best fast is the fast of Dawud: fasting one day and breaking the fast the next. Recite the Quran once every seven nights and do not exceed that." [Agreed upon]
In a narration by Tirmidhi, the Prophet (ﷺ) said, "He has not understood who recites the Quran in less than three days."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٥١٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُوْمُ النَّهَارَ وَتَقُوْمُ اللَّيْلَ، فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرُ، وَقُمْ وَنَمْ؛ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، صُمْ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ». قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: هُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ، صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلتَّرْمِذِي عَنْهُ : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَمْ يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ 1.
اردو
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک روز) مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم
(ہر روز) دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو، کیا یہ صحیح ہے؟ میں نے عرض کیا: جی
ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہ
کرو بلکہ روزہ بھی رکھا اور روزہ ترک بھی کرو، رات کو عبادت بھی کرو، اور سویا بھی کرو۔ اس لئے کہ
تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور
تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔ جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، گویا اس نے روزہ ہی نہ رکھا۔ ہر مہینہ
میں تین روزے رکھا (ثواب میں) ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے، تو تم ہر مہینہ صرف تین روزے
رکھ لیا کرو، اور ہر مہینہ میں ایک قرآن پڑھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم!) مجھے اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت ہے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: تو تم صوم داؤدی رکھا کرو جو روزوں میں بہترین روزے ہیں اور صوم داؤدی ایک دن روزہ
رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا ہے اور سات راتوں (یعنی ایک ہفتہ میں) ایک قرآن پڑھا کرو، اور
(روزوں کے رکھنے اور قرآن کے پڑھنے میں) اس سے زیادہ مشقت نہ اٹھاؤ۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا گویا
اس نے قرآن نہیں سمجھا (کنز الدقائق میں لکھا ہے کہ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس
دن میں ایک قرآن ختم کر لینا چاہئے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1975 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Three..." In Kanz al-Daqa’iq, it is said: "One should not complete the Quran in less than three days nor exceed forty days." This is mentioned in Al-Urf al-Shadhi.
Note 1
(۱) قوله : ثلاث إلخ وفي كنز الدقائق»: لا يختم في أقل من ثلاثة أيام ولا يزيد على أربعين يوما. قاله في «العرف الشذي».