Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ

Hadith 2578

كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ

In this book

Current reading

كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ

كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ

Zujajat al-Masabih 2578Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٨ - وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُوْنَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلَى الله فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَوَ قَدْ فَعَلُوْهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّهَا سَتَكُوْنُ فِتْنَةٌ، فَقُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «كِتَابُ اللهِ، فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ،وَهُوَ الْفَضْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللهُ، وَمَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذَّكْرُ الْحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيعُ بِهِ الْأَهْوَاءُ، وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ﴾ (الجن : ١) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2906 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2138 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2138

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جس نے قرآن کے سوا کسی اور چیز میں ہدایت تلاش کی تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیں گے‘‘۔ اس ارشاد سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیخ ابو اسحاق کازرونی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ گمراہ فرقے جیسے خوارج، قدریہ، جبریہ وغیرہ سنت کی طرح قدریہ قرآن ہی سے استدلال کرتے ہیں؟ اس پر علامہ کازرونی نے قرآن کی آیت پڑھی: ’’يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا‘‘۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:26) (اللہ تعالیٰ قرآن ہی سے اکثر کو گمراہ کرتے ہیں اور قرآن ہی سے اکثر کو ہدایت دیتے ہیں) اور علامہ ممدوح نے یہ بھی فرمایا کہ گمراہ فرقے کامل طور پر قرآن سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ انھوں نے ان حدیثوں کو چھوڑ دیا جو حقیقت میں مقاصد قرآنی کی تفسیر ہیں حالانکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‘‘ (سورۃ حشر، آیت نمبر:7) (رسول جو کچھ تم کو دیں تم اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو باز رکھیں تم اس سے باز رہو)۔ تو ان فرقوں نے قرآن کی معرفت کا حق ادا نہیں کیا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی جو قرآن کی معرفت میں کامل ہیں جس کے نتیجہ میں انھوں نے احادیث کا انکار کیا۔ چنانچہ امام الصوفیہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو قرآن حفظ نہ کرے اور حدیث نبوی نہ لکھے تو وہ اتباع کے لائق نہیں ہے اور جو ہمارے طریقہ یعنی تصوف میں بغیر علم کے داخل ہوا اور اپنی جہالت پر اڑا رہا تو وہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے گا کیونکہ ہمارا طریقہ کتاب اور سنت کے ساتھ مقید ہے۔ مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ قرآن کے ساتھ احادیث نبوی مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے حجت اور ماخذ قرار دینے کے لئے محدثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے یہاں بطور مثال کے ابوداؤد کی ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کو حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے وہ تو صرف قرآن ہی میں موجود ہے (اب حدیث کی کیا ضرورت ہے) سن رکھو خدا کی قسم میں نے جن جن چیزوں (کے کرنے کا) کا حکم دیا ہے اور نصیحت کی ہے اور جن چیزوں سے منع کیا ہے (یعنی میری احادیث) وہ بھی (اپنی نوعیت میں) قرآن کی طرح ہیں بلکہ (بعض صورتوں میں جہاں قرآن مجمل ہو یا ساکت ہو قرآن سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اعلی آخر الحدیث۔ اس سے ثابت ہوا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرنے والا منکر اور کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انکار حدیث کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔