Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues of the Qur’an

Hadith 2589

Opening narrations

In this book

Current reading

the Virtues of the Qur’an

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2589Volume 2

English

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that Usayd ibn Hudayr said: "While he was reciting Surah Al-Baqarah at night with his horse tied beside him, the horse suddenly became agitated. He stopped reciting, and it calmed down. When he resumed, it became restless again. He stopped, and it settled. When he recited again, the horse moved violently, so he stopped. His son Yahya was nearby, and he feared it might harm him. When he moved the child away, he looked up and saw something like a canopy with lamps. In the morning, he told the Prophet (ﷺ), who said: ‘Recite, O Ibn Hudayr! Recite, O Ibn Hudayr!’ He said, ‘O Messenger of Allah, I feared the horse might step on Yahya, so I turned to him and saw a canopy with lamps.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Those were angels drawing near at your recitation. Had you continued, people would have seen them in the morning, clearly visible.’" [Agreed upon, with Bukhari’s wording] In Muslim’s version: "I ascended into the sky..."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٩ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوْطَةٌ عِنْدَهُ إِذَا جَالَتْ الفَرَسُ، فَسَكَتَ فَسَكَنَتْ، فَقَرَأَ فَجَالَتْ، فَسَكَتَ وَسَكَنَتْ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ وَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ ، فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ، اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ». قَالَ: فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا، فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ، وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا. قَالَ: وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟ قَالَ: لَا ، قَالَ: تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ، دَنَتْ لِصَوْتِكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحْتَ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا، لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي مُسْلِمٍ»: «عَرَجْتُ فِي الْجُوِّ بَدْلَ فَخَرَجْتُ عَلَى صِيْغَةِ الْمُتَكَلِّمِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
29/3064۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان سے کیا کہ ایک دفعہ وہ رات میں سورہ بقرہ تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا جو ان سے قریب ہی بندھا ہوا تھا اچھلنے اور کودنے لگا تو حضرت اُسید نے قرآن پڑھنا روک دیا تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا جب انہوں نے پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اچھلنے بدکنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے تلاوت روک دی تو ادھر گھوڑا بھی خاموش کھڑا ہو گیا۔ حضرت اسید تیسری بار پھر قرآن پڑھنے لگے تو گھوڑا پھر بدکنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر حضرت اُسید اس خوف سے خاموش ہو گئے۔ ان کا بچہ بھی گھوڑے سے قریب ہی سو رہا تھا کہیں گھوڑا اس کو زخمی نہ کر دے جب حضرت اُسید نے اپنے بچہ کو سلا دیا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابر کی مانند کوئی چیز سایہ فگن ہے جس میں چراغوں کی طرح کچھ چیزیں روشن ہیں جب صبح ہوئی تو حضرت اسید نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (یہ واقعہ) عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن حضیر کاش تم پڑھتے ہی رہتے۔ اے ابن حضیر کاش تم قرآن پڑھتے ہی رہتے یہ سن کر حضرت اسید نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں ڈر گیا تھا کہ تلاوت کو جاری رکھنے کی صورت میں کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ روند ڈالے جو اس سے قریب ہی سو رہا تھا پس میں قرآن کی تلاوت کو روک کر بچے کے پاس گیا اور آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی چیز ابر کی طرح سایہ فگن ہے جس میں چراغوں کے مانند کچھ چیزیں روشن ہیں۔ پھر میں باہر نکلا تو دیکھا کہ کچھ بھی نہ تھا حضور نے ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ وہ کیا تھا۔ میں نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو حضور نے فرمایا سنو وہ فرشتے تھے (جو لطیف اور نورانی اجسام کی شکل میں) تمہاری قرأت سننے کے لئے آئے تھے اگر تم اپنی قرأت جاری رکھتے تو صبح لوگ فرشتوں کو اس طرح دیکھ لیتے تو وہ یعنی فرشتے ان سے پوشیدہ نہ رہتے یعنی لوگ فرشتوں کو برملا دیکھ لیتے)۔ اس کی روایت متفقہ طور پر بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5018 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 796a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.