English
‘A’ishah (may Allah be pleased with her) narrated in the hadith about the beginning of revelation: Then he sent me (Jibril) and said: "Recite in the name of your Lord who created—Created man from a clinging substance..." [96:1-5]
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٦٧٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) فِي حَدِيْثِ الْوَحْيِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: ﴿إِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ* خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ* اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ* الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ﴾ (العلق: ١-٥) الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3163
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے (ایک طویل حدیث مروی
ہے جو وحی کی ابتداء کے بارے میں ہے اس میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے لپٹا کر دبوچا اور پھر چھوڑ دیا اور کہا ”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي
الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ ” پڑھے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ نے پوری حدیث بیان فرمائی ہے۔ اور
اس حدیث کی روایت امام بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4953 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورۃ فاتحہ کی طرح کسی اور سورۃ کا بھی جزو نہیں ہے ورنہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اس سورت کو ”اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ“ سے شروع نہیں کرتے بلکہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے شروع کرتے