Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Supplications

Hadith 2732

Chapter: The Remembrance of Allah (Exalted and Glorified is He) and Drawing Close to Him

In this book

Current reading

Supplications

Chapter: The Remembrance of Allah (Exalted and Glorified is He) and Drawing Close to Him

Zujajat al-Masabih 2732Volume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah the Exalted says: 'Whoever shows enmity to a friend of Mine, I declare war upon him. My servant does not draw near to Me with anything more beloved to Me than what I have made obligatory upon him. My servant continues to draw near to Me with supererogatory acts until I love him. When I love him, I become his hearing with which he hears, his sight with which he sees, his hand with which he strikes, and his foot with which he walks. If he asks Me, I will surely grant him; if he seeks refuge in Me, I will surely protect him. I do not hesitate about anything as I hesitate about taking the soul of a believer - he dislikes death, and I dislike displeasing him, but it is inevitable.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٧٣٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ،1 وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيدَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ - أَنَا فَاعِلُهُ - تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ، وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3223
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس کسی نے میرے کسی ولی کو ایذاء پہنچائی تو میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں اور ایسے بندۂ مومن کے لئے جو میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہو۔ مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ وہ میرے فرائض کی ادائی کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرے۔ اور میرا بندہ (فرائض کی تکمیل کے ساتھ) ہمیشہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں) اور جب اس کو محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ سنتا ہے۔ اور میں اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ دیکھتا ہے ۔ اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ چلتا ہے۔ اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔ اور میں جس کام کو کرنا چاہتا ہوں اس میں توقف اور تردد نہیں کرتا۔ سوائے اس کے کہ مجھے اس بندہ مومن کی روح کو قبضہ کرنے میں تردد اور تامل ہوتا ہے جو ابھی موت کو برا سمجھتا ہے۔ اس لئے کہ مجھے اس کی ناخوشی پسند نہیں (یہاں تک کہ میں اس کو آخرت کے انعامات بتلاتا ہوں تا کہ اس سے موت کا خوف نکل آئے اور آخرت کا شوق بڑھ جائے اس لئے کہ ) موت سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6502 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2266 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2266

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I declare war upon him

(1) His statement: "I declare war upon him" - The scholars said: Among sins, none are met with Allah's warning of war except this (enmity to His friends) and usury, as Allah says: "Then take a notice of war from Allah and His Messenger" (Al-Baqarah 2:279). This indicates the gravity of these two sins, for Allah's declaration of war against a servant suggests his evil end - whoever fights Allah will never succeed. Mirqat al-Mafatih mentions this.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فقد آذنته بالحرب قال الأئمة: ليس في المعاصي من توعد الله أربابها بأنه محاربه إلا هذا وآكل الربا، قال تعالى: ﴿فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ ﴾ (البقرة : ۲۷۹)، وهذا يدلُّ على ما في هاتين الخصلتين من عظم الخطر؛ إذ محاربة الله للعبد تدل على سوء خاتمته؛ لأن من حارب الله لا يفلح أبدا. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو میرے کسی ولی کو ایذاء پہنچائے تو میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ ائمہ کرام کا ارشاد ہے کہ گناہوں میں صرف دو گناہ ایسے ہیں جس کے بارے میں ایسی سخت وعید وارد ہوئی ہے ایک تو سود خواری اور دوسرے اولیاء اللہ کو ایذاء پہنچانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں گناہ عظیم خطرہ میں انسان کو پہنچانے والے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے سوئے خاتمہ کا اندیشہ یقینی ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جس سے جنگ کریں تو پھر اس کو کون بچا سکتا ہے۔12 اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ جب بندہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے تو میں اس کو محبوب بنا لیتا ہوں اور اس کی سماعت اور بصارت بن جاتا ہوں۔ الخ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: یہاں اس مقام کا بیان ہے جس کو علم سلوک میں فانی فی اللہ اور بقا باللہ کہتے ہیں کہ جب بندہ نفل پر مداومت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل اعضاء اور جوارح کا آنکھ کان ہاتھ پاؤں کا نگہبان ہو جاتا ہے کہ بندہ کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے مقبول بندہ کے آنکھ، کان اور ہاتھ پاؤں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہو جاتے ہیں تو ایسے بلند مرتبہ اور قرب الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ دوام نفل ہے اور قرب الٰہی بغیر عبادت کے حاصل نہیں ہوتا۔ تو انسان کو چاہئے کہ عبادت پر کمر باندھے۔12