English
Abu ad-Darda (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Shall I inform you of the best of your deeds, the purest in the sight of your King, the highest in elevating your ranks, better than giving gold and silver, and better than meeting your enemies and striking their necks while they strike yours?" They said, "Yes!" He said, "Remembrance of Allah."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٧٣٤ وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «ذِكْرُ اللهِ». رَوَاهُ مَالِكُ وَأَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقَفَهُ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3225
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے ایک وقفہ کے بعد ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے
میں سب سے بہتر اور تمہارے پروردگار کے پاس سب سے پاکیزہ اور بلندی درجات کے لئے سب
سے اعلی ہے اور وہ ایسا عمل بھی ہے جو سونے اور چاندی کی خیرات سے بھی بہتر ہے اور اس سے بھی
بہتر یہ ہے کہ تم (خدا کی راہ میں دشمنان اسلام سے جہاد کرو تم ان کو) قتل کرو اور وہ تمہیں شہید کریں۔
صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور ارشاد فرمائیے یا رسول اللہ ہم ایسے عمل کو جاننے کے مشتاق ہیں تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (سنو) وہ اعلی ترین عمل اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے۔
اس کی روایت امام مالک، امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3377 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3790 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2269 (unverified) 97% confidence
Mishkat (candidate) 2269
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر افضل اعمال ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ: اور عبادتیں جیسے سونے اور چاندی کی خیرات اور دشمنان اسلام سے جہاد وغیرہ یہ اللہ تعالیٰ کے ذرائع تقرب ہیں لیکن ذکر الٰہی بنفسہ مقصود اور مطلوب ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ“ (تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا)(سورۃ بقرہ، آیت نمبر:152) اور حدیث قدسی میں یوں ارشاد ہے کہ ”انا جليس من ذكرني“ (میں اپنے ذاکر کا ہم نشیں ہوں)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ”وانا معه اذا ذكرني“ میں ذاکر کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرے۔ اھ۔ شیوخ طریقت رحمہم اللہ نے ذکر کے جو طریقے بتائے ہیں ان کے مطابق ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہئے۔12