Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Names of Allah the Exalted

Hadith 2770

Chapter: The Reward of Glorification (Tasbeeh), Praise (Tahmeed), Declaration of Oneness (Tahleel), and Magnification (Takbeer)

In this book

Current reading

the Names of Allah the Exalted

Chapter: The Reward of Glorification (Tasbeeh), Praise (Tahmeed), Declaration of Oneness (Tahleel), and Magnification (Takbeer)

Zujajat al-Masabih 2770Volume 2

English

Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported: We were traveling with the Messenger of Allah (ﷺ), and people began raising their voices in Takbeer (Allahu Akbar). The Messenger of Allah (ﷺ) said, "O people, be gentle with yourselves. You are not calling someone deaf or absent. You are calling the All-Hearing, the All-Seeing, Who is closer to you than the neck of your mount." Abu Musa said, "I was saying to myself: 'La hawla wa la quwwata illa billah' (There is no power nor strength except with Allah)." The Prophet (ﷺ) said to me, "O Abdullah ibn Qays, shall I guide you to a treasure from the treasures of Paradise?" I said, "Yes, O Messenger of Allah!" He said, "Say: 'La hawla wa la quwwata illa billah.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۷۷۰ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِﷺ فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ1 التَّكْبِيرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوْا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُوْنَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ، وَالَّذِي تَدْعُوْنَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةٍ، قَالَ أَبُوْ مُوسَى: وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ فِي نَفْسِي، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَثْرٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3263
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) سفر کر رہے تھے (راستہ میں) چند اصحاب نے بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنا شروع کیا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر سختی نہ کرو (اور آہستہ آہستہ ذکر کرو)۔ اس لئے کہ تم جس ذات عالی کو پکار رہے ہو وہ نہ تو کم سننے والا ہے اور نہ تم سے غائب ہے بلکہ تم جس ہستی کو پکار رہے ہو وہ تو سَمِيْعٌ وَّ بَصِيْرٌ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے اور وہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور جس کو تم پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے زیادہ تم سے زیادہ قریب ہے (یعنی تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے) حضرت ابوموسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا۔ اور اپنے دل میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کا نام ہے) کیا میں تم کو ایسا خزانہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ضرور بتائیے آپ نے فرمایا (سنو) وہ کلمہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6384 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2704a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Raising their voices...

(1) His statement: "Raising their voices..." – This clarifies the ruling on loud and quiet remembrance of Allah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: يجهرون إلخ وتحقيق الجهر والسر في باب ذكر الله عز وجل.