Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Names of Allah the Exalted

Hadith 2824

Chapter: The Mercy of Allah

In this book

Current reading

the Names of Allah the Exalted

Chapter: The Mercy of Allah

Zujajat al-Masabih 2824Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A man who had never done any good deed (or in another narration: 'A man who had sinned excessively') said to his sons at the time of his death: 'When I die, burn me, then scatter half my ashes on land and half in the sea. By Allah, if Allah has power over me, He will punish me as no one else in the worlds has been punished.' When he died, they did as he instructed. Allah commanded the sea to gather what was in it and the land to gather what was on it. Then He asked him: 'Why did you do this?' He replied: 'Out of fear of You, and You know best.' So Allah forgave him."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٨٢٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ». وَفِي رِوَايَةٍ: «أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ»، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ: إِذَا مَاتَ فَحَرَّقُوهُ، وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَأَمَرَ اللهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3324
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: (پچھلی امتوں میں سے) ایک شخص کا واقعہ ہے جو بہت گنہگار تھا کہ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اس کو جلا دیں اور اس کی راکھ کے آدھے حصہ کو جنگل میں اڑا دیں اور آدھے حصہ کو دریا میں بہا دیں (اس نے یہ وصیت اس خوف سے کی کہ) بخدا اگر اللہ تعالیٰ کو اس پر قابو حاصل ہو جائے تو (اس کے گناہوں کی وجہ سے) اس پر ایسا عذاب نازل کریں گے کہ آج تک دنیا میں کسی کو نہ دیا گیا ہوگا (خوف الٰہی نے اس کو اس بات سے بھی غافل کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہیں کہ اس کے منتشر اجزاء کو جمع کر کے اس کا حساب لیں گے) پس جب اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے بیٹوں نے اس کی وصیت پر عمل کیا (اس کو جلا کر اس کی راکھ کو اڑا دیا گیا اور دریا میں بہا دیا گیا) پس اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس شخص کے اجزاء کو جمع کر دے اور اسی طرح خشکی کو حکم دیا کہ وہ بھی اس کے اجزاء کو جمع کر دے (جب وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوا تو) اللہ تعالیٰ نے اس سے سوال کیا کہ تو نے ایسی حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا خداوندا! (میں بہت گنہگار تھا) تیرے (عذاب کے ڈر سے ایسا کیا ہوں آپ میری نیت سے) باخبر ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے (خوف الٰہی اور اپنے گناہوں کے اعتراف کی وجہ سے) اس کو بخش دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7506 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.794
  • Candidate: Sahih Muslim 2756a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.