Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى

Hadith 2829

بَابٌ

In this book

Current reading

كِتَابُ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى

بَابٌ

Zujajat al-Masabih 2829Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٨٢٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ». قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ بِرَحْمَةٍ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاغْدُوا وَرُوحُوا ، وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6463 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2816a (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمت خداوندی اور فضل الٰہی جب بندہ کو شامل حال ہوتی ہے تو بندہ کو نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور بندہ نیک عمل کرتا ہے اور نجات حاصل کرتا ہے ورنہ محض نیک عمل بطور موجب باعث نجات نہیں، اگر فضل الٰہی شامل حال نہ ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر کسی بندہ کا کچھ زور نہیں ہے، اور نہ اس کے حکم کے سامنے کسی کو چون و چرا کی مجال ہے اور اس کی قدرت بے حد و بے حساب ہے۔ کسی کی کیا طاقت کہ خود کو جنت کا مستحق خیال کرے اور بندہ کے عمل کا یہ حال ہے کہ خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ ہو نقص اور کوتاہی سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی اپنے نیک عمل پر نہ اترائے اور نہ بھروسہ کرے۔ اب رہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے آپ کو اس میں شامل فرمانا ایک عمومی خطاب کے طور پر ہے جس میں جواب دینے والا اپنے آپ کو شامل کر کے جواب دیتا ہے تا کہ مسئلہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ یہ بات بھی خوب واضح رہے کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عمل کو ترک کر دیا جائے اور اس سے پہلو تہی کی جائے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عمل اس وقت کامل اور مقبول ہو گا جب کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس میں شامل ہو۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اعتدال اور میانہ روی سے نیک عمل کرتے جاؤ تا کہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکو۔ (ماخوذ از: مرقات اور اشعۃ اللمعات۔)12