English
Abdur-Rahman ibn Abi Bakra said: I said to my father, "O father, I hear you saying every morning: 'O Allah, grant me well-being in my body. O Allah, grant me well-being in my hearing. O Allah, grant me well-being in my sight. There is no god but You.' You repeat it three times in the morning and three times in the evening." He replied, "O my son, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) supplicating with these words, and I love to follow his Sunnah."
العربية
Typed, pending editorial approval
۲۸۳۷ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَقُوْلُ كُلَّ غَدَاةٍ: اللهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، تُكَرِّرُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَدْعُوْ بِهِنَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3337
عبدالرحمن بن ابی بکرۃ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
اپنے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: ابا جان! ہر روز صبح اور شام میں آپ کو یہ دعاء تین
تین مرتبہ پڑھتے ہوئے سنتا ہوں (اس کی کیا وجہ ہے؟) اللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَدَنِيْ ۔ اللّٰهُمَّ عَافِنِيْ
فِي سَمْعِي. اللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي. لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ ۔ اے اللہ! میرے بدن کو عافیت سے
رکھئے اے اللہ! آپ میری سماعت میں عافیت دیجئے (کہ میں احکام شریعت کو سن کر عمل کرنے کے
قابل رہوں) الٰہی! مجھے میری بصارت میں عافیت دیجئے (تا کہ میں آپ کی نشانیوں سے عبرت
حاصل کر سکوں)
آپ اس دعا کو تین بار صبح اور تین بار شام پڑھا کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: اے میرے
بیٹے میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (صبح اور شام) ان دعاؤں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے تو میں
آپ کی سنت کی پیروی کرنا بے حد پسند کرتا ہوں۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 5090 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف کے آخر میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند کو اس دعا کو صبح وشام پابندی کی وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ مجھے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی بے حد پسند ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعاؤں اور اعمال خیر کے انجام دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع مقصود ہو، نہ کہ کوئی دنیوی غرض۔ مشکوٰۃ۔