English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) would say during times of distress: "There is no god but Allah, the All-Mighty, the Forbearing. There is no god but Allah, Lord of the Mighty Throne. There is no god but Allah, Lord of the heavens and earth, and Lord of the Noble Throne."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6346 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2730a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "He would say during times of distress" - This supplication indicates that no one can remove distress except Allah. At-Tibi said this is a remembrance that leads to the removal of distress. An-Nawawi said this is a noble hadith that should be given attention and frequently recited during difficulties. At-Tabari said the early scholars would recite it and called it "the supplication of distress." Ibn Battal narrated that Abu Bakr ar-Razi saw the Prophet (ﷺ) in a dream telling him to recite this supplication, and when he did, he was released from prison. As mentioned in Umdat al-Qari.
Note 1
(۱) قوله: يقول عند الكرب إلخ في هذا الذكر إشارة بأنه لا يقدر أحد على إزالة الغم إلا الله. قال الطيبي : هذا ذكر يترتب عليه رفع الكرب. قاله في المرقاة». وقال النووي: وهو حديث جليل ينبغي الاعتناء به، والإكثار عنه عند الكرب، والأمور العظيمة. قال الطبري: كان السلف يدعون به ويسمونه دعاء الكرب انتهى. وقال ابن بطال : حدثني أبو بكر الرازي قال: كنت بأصبهان عند أبي نعيم أكتب الحديث عنه، وهناك شيخ يقال له : أبو بكر بن علي عليه مدار الفتيا، فسعى به عند السلطان، فسجنه، فرأيت النبي في المنام وجبريل عن يمينه يحرك شفتيه بالتسبيح لا يفتر، فقال لي النبي قل لأبي بكر بن علي يدعو بدعاء الكرب الذي في صحيح البخاري حتى يفرج الله عنه، فأصبحت فأخبرته، فدعا به فلم يكن إلا قليلا حتى أخرج من السجن. كذا في «عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہوکہ دعاء الکرب سختی اور کرب کے وقت مفید اور مجرب ہے۔ جیسے کوئی درد لاحق ہو یا آگ لگ جاوے یا پانی میں ڈوبنے لگے یا کسی اور بلا میں پھنس جاوے۔ چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث پر توجہ دینی چاہئے اور شدت تکلیف کے وقت اس پر عمل کرنا چاہئے۔ علامہ طبری نے کہا ہے کہ سلف کا اس پر عمل تھا اور وہ بھی اس دعاء کو دعاء الکرب کہتے تھے۔ علامہ ابن بطال نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے ابوبکر رازی نے کہا کہ: میں ایک مرتبہ اصفہان میں شیخ ابو نعیم کے پاس حدیث لکھا کرتا تھا اور وہاں ایک شیخ رہا کرتے تھے جن کا نام ابوبکر بن علی تھا اور وہ افتاء کا کام کیا کرتے تھے۔ بادشاہ وقت کے پاس کسی نے ان کی شکایت کی تو بادشاہ نے ان کو قید میں ڈال دیا۔ ابوبکر رازی نے کہا کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے سیدھی جانب میں اور مسلسل بغیر تھکے کے تسبیح پڑھ رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ابوبکر بن علی سے کہو کہ وہ صحیح بخاری میں جو دعاء الکرب مروی ہے اس کو پڑھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت کو دور فرما دے۔ میں نے اس خواب کی اطلاع ابوبکر بن علی کو دی اور انہوں نے اس دعا کو پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے دن نہ گزرے تھے کہ قید سے ان کو رہائی مل گئی۔ یہ واقعہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔ اس واقعہ سے اس دعا کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔