Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 2979

Opening narrations

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2979Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3514
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد چار مرتبہ عمرے کی نیت سے احرام باندھا اور وہ سب کے سب ذوالقعدہ کے مہینہ میں ہوئے سوائے اس عمرہ کے جس کو آپ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کے مہینہ میں) حج کے ساتھ ادا فرمایا (ان عمروں کی تفصیل یہ ہے) پہلے عمرہ کا احرام آپ نے مقام حدیبیہ سے ذوالقعدہ کے مہینہ میں باندھا اور دوسرا عمرہ (صلح حدیبیہ کے) بعد والے سال میں ذوالقعدہ کے مہینہ میں (بطور قضاء سنہ سات ہجری میں ادا فرمایا) جس کو عمرۃ القضاء کہتے ہیں، اس لئے کہ سال گزشتہ آپ کو مقام حدیبیہ پر عمرہ ادا کرنے سے مشرکین نے روک دیا تھا جس کو آپ نے اب ادا فرمایا) تیسرا عمرہ آپ نے مقام جعرانہ سے (سنہ آٹھ ہجری میں) کیا جہاں آپ نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا تھا اور یہ عمرہ بھی ذوالقعدہ کے مہینہ میں ہوا اور چوتھا عمرہ آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ (سنہ دس ہجری میں ذوالحجہ کے مہینہ میں) ادا فرمایا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1253a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1779 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (9)

Note 1

Four ‘Umrahs

(1) The statement: "Four ‘Umrahs" – This refers to entering Ihram four times. Only three were completed, as Al-Bara’ ibn ‘Azib said the Prophet (ﷺ) performed two ‘Umrahs before Hajj, excluding Hudaybiyah. Fath al-Qadir elaborates.

Note 2

All in Dhul-Qa‘dah

(2) The statement: "All in Dhul-Qa‘dah" – ‘Umrah is valid year-round except five disliked days. Ash-Shafi’i held no time is disliked, while Malik disliked ‘Umrah during Hajj months. The correct view is permissibility, as proven by the Prophet’s ‘Umrahs in Dhul-Qa‘dah. Al-Binayah cites this.

Note 3

‘Umrah the following year

(3) The statement: "‘Umrah the following year" – Abu Hanifah viewed this as compensatory for Hudaybiyah. Malik considered it a new ‘Umrah. The term "‘Umrat al-Qada’" used by the Companions supports Abu Hanifah’s view. Fath al-Qadir analyzes this.

Note 4

‘Umrah with his Hajj

(4) The statement: "‘Umrah with his Hajj" – This refers to the Qiran Hajj, as established earlier. Shaykh Ibn Hajar affirmed this.

Note 1

قوله

(۱)قوله: أربع عمر : المراد بالأربعة إحرامه بهن،فأما ما تمَّ له منها فثلاث، ولهذا قال البراء بن عازب اعتمر النبي عمرتين قبل أن يحج فلم يحتسب بعمرة الحديبية. كذا في الصحيحين. قاله في «فتح القدير».

Note 2

قوله

(۲) قوله: كلهن في ذي القعدة والحاصل : أن جميع السنة وقتها إلا خمسة أيام يكره فعلها فيها، أي فعل العمرة في هذه الخمسة الأيام. وقال الشافعي : لا يكره في وقت من السنة. وقال مالك: تكره في الشهر الحج تعظيما لأمر الحج، وقد اختلف السلف في العمرة في أشهر الحج، فكان عمر الله ينهى عنها، ويقول: الحج في الأشهر والعمرة في غيرها أكمل الحجكم وعمرتكم. والصحيح أن العمرة جائزة فيها بلا كراهة بدليل ما روى البخاري في الصحيح بإسناده أن رسول الله ﷺ اعتمر أربع عمر في ذي القعدة. قاله في «البناية».

Note 3

قوله

(۳) قوله: عمرة من العام المقبل إلخ : أي هي عمرة القضاء في العام المقبل، وهي قضاء عن الحديبية، هذا مذهب أبي حنيفة، وذهب مالك إلى أنها مستأنفة لا قضاء عنها، وتسمية الصحابة وجميع السلف إياها بعمرة القضاء ظاهر في خلافه، وتسمية بعضهم إياها عمرة القضية لا ينفيه؛ فإنه اتفق في الأولى مقاضاة النبي أهل مكة على أن يأتي من العام المقبل، فيدخل مكة بعمرة ويقيم بها ثلاثا، وهذا الأمر قضية تصح إضافة هذه العمرة إليها؛ فإنها عمرة كانت من تلك القضية، فهي قضاء عن تلك القضية، فتصح إضافتها إلى كل منهما، فلا تستلزم الإضافة إلى القضية، ففي القضاء والإضافة إلى القضاء يفيد ثبوته فيثبت مفيد ثبوته بلا معارض، وأيضًا فالحكم الثابت فيمن شرع في إحرام بنسك، فلم يتمه لإحصار فحل أن يقضي، وهذه تحتمل القضاء، فوجب حملها عليه وعدم النقل أنه الأمر الذين كانوا معه بالقضاء لا يفيد ذلك، بل المفيد له نقل العدم لا عدم النقل نعم، هو مما يؤنس به في عدم الوقوع؛ لأن الظاهر أنه لو كان لنقل، لكن ذلك إنما يعتبر لو لم يكن من الثابت ما يوجب القضاء في مثله على العموم، فيجب الحكم بعلمهم به وقضائها من غير تعين طريق علمهم. كذا في فتح القدير».

Note 4

قوله

(٤) قوله: وعمرة مع حجته: أي عمرته التي قرنها مع حجته على ما أسلفنا إثباته من أنه قارنا له. قاله الشيخ ابن الهمام.

Note 1

ف: (1) صاحب مرقات فتح القدیر نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ کی نیت سے احرام باندھا لیکن تین عمرے پورے ہوئے۔ اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام حدیبیہ سے پہلی مرتبہ عمرہ کی نیت سے جب احرام باندھا تو اہل مکہ نے آپ کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی اور آپ نے اس عمرہ کی قضاء دوسرے سال ادا فرمائی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد اگر کسی عذر سے عمرہ ادا نہ کرسکے تو اس کی قضاء واجب ہے۔ اور یہی مذہب حنفی ہے۔12 ف(2): اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر یعنی ہجرت کے دسویں سال حج ادا فرمایا اور اس سے پہلے دو عمرے ادا فرمائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ادا فرمانے میں جو تاخیر فرمائی ہے اس کے بارے میں کنز الدقائق کی شرح میں علامہ عینی رحمہ اللہ نے لکھا ہے جس کی فتح اللہ المعین میں تائید بھی موجود ہے کہ آیت مبارکہ ”وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ“ سنہ نو(9) ہجری کے آخر میں نازل ہوئی ہے جس سے حج فرض کیا گیا اور اس کے بعد ہی آئندہ سال بغیر تاخیر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج ادا فرمایا۔ اسی وجہ سے ذوالقعدہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف عمرے ادا فرمائے اور حج ادا نہیں فرمایا کیونکہ حج ابھی فرض نہیں ہوا تھا۔12