اردو
ابو زبیر رحمہ اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ اہل مدینہ کی میقات
ذوالحلیفہ ہے اور اہل شام کی میقات ”جُحْفَہ“ ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے اور اہل نجد کی
میقات قرن ہے اور اہل مشرق کی میقات ذات عرق ہے، پھر آپ نے چہرہ مبارک آسمان کی
طرف کیا اور یہ دعا کی: اے اللہ! یہاں حاضر ہونے والوں کے دلوں کو (اپنی طرف) مائل کر دیجئے!۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ (جو کوئی حج یا عمرہ کی نیت سے کعبۃ اللہ حاضر ہونا
چاہے تو) وہ بغیر احرام کے میقات سے نہ گزرے۔ اور طبرانی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور امام شافعی نے ابوالشعثاء سے روایت کی ہے کہ انھوں نے ابن عباس رضی
اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ اس شخص کو جو بغیر احرام کے میقات پر سے گزرتا تو اس کو واپس فرما دیتے
(تاکہ وہ احرام باندھ کر میقات پر سے گزرے)۔
اور ابن ابی شیبہ نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کی ہے۔
اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی
ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا جب کوئی شخص بغیر احرام باندھے میقات پر سے گزر جائے یہاں
تک کہ وہ مکہ معظمہ میں داخل ہو جائے تو وہ (دوبارہ) میقات تک واپس جائے اور احرام باندھے اور
اگر اس کو اندیشہ ہو کہ اس کے میقات جا کر آنے تک (حج) فوت ہو جائے گا تو ایسی صورت میں وہ
وہیں (اندرون میقات) احرام باندھ لے اور (بغیر احرام میقات پر سے گزرنے کی پاداش میں) دم
دیوے (یعنی بکرا ذبح کرے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2915 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "No one may cross..." – These explicit texts take precedence over implied meanings in other narrations (e.g., "for those intending Hajj/‘Umrah"), assuming they are the Prophet’s (ﷺ) own words rather than the narrator’s. Fath al-Qadir states this.
Note 1
(۱) قوله : لا يجاوز الخ: فهذه المنطوقات أولى من المفهوم المخالف في قوله ممن أراد الحج والعمرة، إن ثبت أنه من كلامه عليها دون كلام الراوي. قاله في فتح القدير».