Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 2988

Opening narrations

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2988Volume 2

English

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "When we exited Ihram after Hajj, the Prophet (ﷺ) commanded us to re-enter Ihram when heading to Mina. So we entered Ihram from Al-Abtah." [Narrated by Muslim] In the agreed-upon narration: Aisha (may Allah be pleased with her) said, "O Messenger of Allah, you depart for ‘Umrah and Hajj while I only perform Hajj?" He instructed 'Abdurrahman ibn Abi Bakr to accompany her to Tan'im, where she performed ‘Umrah after Hajj.

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۹۸۸ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه)قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ تُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنَى قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ : أَنَّ عَائِشَة (رضي الله عنها)قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَتَنْطَلِقُوْنَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَقِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3531Noor 3532
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیا اور پھر (مناسک حج کی ادائی کے لئے منٰی کا قصد کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو (حج کے لئے) احرام باندھنے کا حکم دیا۔ حضرت جابر نے فرمایا کہ ہم نے اَبْطَح سے (جو مکہ معظمہ اور منٰی کے درمیان ایک وادی ہے) احرام باندھ کر لبیک کہا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (ایک طویل حدیث میں حَجَّةُ الوداع کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فوت شدہ عمرہ کے بارے میں) اس طرح روایت کی ہے کہ ام المومنین نے فرمایا کہ یا رسول اللہ! آپ حضرات تو حج اور عمرہ دونوں ادا کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں (حائضہ ہونے کی وجہ سے) صرف حج کر سکی ہوں (اور میرا عمرہ فوت ہو گیا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی عبدالرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ مقام تنعیم تک چلیں جہاں سے مجھے عمرہ کا احرام باندھنا تھا (اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے فوت شدہ عمرہ کے بدل) حج کے بعد عمرہ کی قضاء کر لوں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1214 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے حسب ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص میقات سے تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھے اور عمرہ کی ادائی کے بعد احرام کھول دے تو اس کو حج کا احرام باندھنے کے لئے دوبارہ میقات تک جانا ضروری نہیں بلکہ وہ کعبہ اللہ ہی سے حج کا احرام باندھ لے۔ اس کے برخلاف کسی کو نفلی یا قضاء عمرہ ادا کرنا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ تنعیم یا جعرانہ تک جائے اور وہاں سے احرام باندھ کر مکہ معظّمہ حاضر ہو اور عمرہ ادا کرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عورت کو عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد حیض آ جائے تو وہ عمرہ ادا نہ کرے گی، اس لئے کہ وہ طواف کعبہ حالت حیض میں ادا نہیں کر سکتی جو عمرہ کا اہم جزء ہے۔ اس لئے وہ پاکی کا انتظار کرے گی اور پاک ہونے کے بعد عمرہ ادا کرے گی، اور اگر اس کے پاک ہونے تک نویں ذوالحجہ آ جائے تو وہ عمرہ کا احرام توڑ دے گی اس لئے کہ وہ ایام حج میں عمرہ ادا نہیں کر سکتی، اس لئے اب وہ حج کا احرام باندھ لے اور حج کے ارکان جیسے وقوف عرفہ اور رمی جمار وغیرہ ادا کرے۔ البتہ پاک ہونے تک طواف زیارت ملتوی رکھے اور پاک ہونے پر طواف زیارت کر کے حج کے مناسک پورے کرلے اور پھر دوبارہ تنعیم یا جعرانہ جا کر فوت شدہ عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کی قضا کرلے۔