اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3953
مخلّد بن خفاف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک
غلام خریدا اور اس کی کمائی کو اپنے خرچ میں لاتا رہا پھر میں اس غلام کے ایک عیب سے واقف ہوا اور
اس معاملہ کی یکسوئی کیلئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پیش ہوا آپ نے
فیصلہ فرمایا کہ میں غلام کو واپس کر دوں اور اس کی کمائی بھی لوٹا دوں (اطمینان مزید کی خاطر) میں
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور ان کو اس پورے واقعہ سے مطلع کیا آپ
نے فرمایا (تم تھوڑا توقف کرو) میں آج شام حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس جاؤں گا اور ان کو
رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے آگاہ کروں گا جس کو میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
سے سنا ہے اور اسی قسم کے مقدمہ میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ نفع تاوان کے مقابلہ
میں ہے (یعنی اگر غلام مر جاتا یا اس میں اور کوئی عیب پیدا ہو جاتا تو بیچنے والے پر اس کا اثر نہ پڑتا
اسی طرح جو نفع غلام سے ملا ہے وہ بھی بیچنے والے کو واپس نہ ملنا چاہیے) چنانچہ حضرت عروہ شام کو
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس گئے (اور حضور ﷺ کے اس فیصلہ سے ان کو مطلع فرمایا تو) انہوں
نے میرے حق میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ (عیب کی وجہ سے غلام کو تو واپس کر دوں البتہ) غلام کی کمائی کا
نفع میں خود لے لوں۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) "Profit follows liability"—Scholars differed on this. Al-Shafi’i held that all usufruct (e.g., crops, offspring) remains with the buyer if the sale is rescinded. The Hanafis restricted this to separable gains (e.g., harvested crops), not generated profits (e.g., offspring).
Note 1
(۱) قوله : فقضى لي أن أخذ الخراج إلخ : اختلف أهل العلم في هذا، فقال الشافعي: ما حدث في ملك المشتري من غلة ونتاج ماشية وولد أمة، فكل ذلك سواء لا يرد منه شيء، ويرد المبيع إذا لم يكن ناقصا عما أخذه، وقال الأحناف: حديث الخراج بالضمان محمول على الزيادة المنفصلة غير المتولدة فإذن لا يعارض حديث الباب حديث المصراة، كما قال الطحاوي في المعارضة، بذل المجهود و العرف الشذي ملتقط منهما. وقال في المرقاة»: والمراد بالخراج . يحصل من غلة العين المبتاعة عبدا كان أو أمة أو ملكا، وذلك أن يشتريه فيستغله زمانًا، ثم يعثر عنه على عيب قديم لم يطلعه البائع عليه أو لم يعرفه، فله رد العين المعيبة وأخذ الثمن، ويكون للمشتري ما استغله؛ لأن المبيع لو تلف في يده لكان من ضمانه، ولم يكن له على البائع شيء. في شرح السنة: قال الشافعي : فيما يحدث في يد المشتري من نتاج الدابة وولد الأمة ولبن الماشية وصوفها وثمر الشجرة: إن الكل يبقى للمشتري، وله رد الأصل بالعيب، وذهب أصحاب أبي حنيفة أن حدوث الولد والثمرة في يد المشتري يمنع رد الأصل بالعيب، بل يرجع بالأرش.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خریدار خریدے ہوئے مال میں جیسے نفع کا مالک ہوتا ہے ویسے ہی نقصان کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے جیسے مذکورہ حدیث میں غلام کے بارے میں یہ ممکن ہے کہ خریدی کے بعد غلام بھاگ جاتا یا فوت ہو جاتا تو خریدار ہی اس نقصان کا ذمہ دار ہوتا۔ لہذا نفع کی صورت میں جو اس غلام سے حاصل ہو خریدار ہی مالک ہوگا۔