English
‘Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever has a claim against someone, and he delays it, he will have the reward of charity for each day.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٢٩ - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ1 بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3983
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کا کسی پر کوئی حق ہو (جیسے قرض وغیرہ اور وہ اس (کی
وصولی) میں (قرضدار کی حالت کے اعتبار سے) اس کو مہلت دے تو ہر دن (اس مہلت کے
بدلہ) صدقہ ہوگا (یعنی ہر دن اس مہلت کے معاوضہ میں اس کو نیکیاں ملتی رہیں گی)۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2921 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 2921
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “He will have the reward of charity for each day”: There are hadiths on the virtue of lending, and the general Qur’anic and hadith evidence on the merit of helping, fulfilling a Muslim’s need, relieving his distress, and meeting his needs encompass this. There is no disagreement among Muslims regarding its legitimacy. This is stated in Nail Al-Awtar.
Note 1
(۱) قوله كان له بكل يوم صدقة وفي فضيلة القرض أحاديث وعمومات الأدلة القرآنية والحديثية القاضية بفضل المعاونة وقضاء حاجة المسلم وتفريج كربته وسد فاقته شاملة له، ولا خلاف بين المسلمين في مشروعيته. كذا في نيل الأوطار».
Note 1
ف: مذکورہ احادیث شریفہ میں قرضدار کو مہلت دینے والے کو جس اجر اور فضیلت کی خوشخبری دی گئی ہے اس بارے میں صاحب نیل الاوطار نے فرمایا ہے کہ قرآن اور احادیث کی رو سے مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کی ضرورت کا رفع کرنا، حاجت کو پورا کرنا، تکلیف کا رفع کرنا اور فاقہ میں کھانا کھلانا مشروع ہے اور ان کا ثواب ہے اس لئے کہ ان کی فضیلت میں جابجا قرآن میں ترغیب اور احادیث شریفہ میں تاکید وارد ہوئی ہے۔