العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٣٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «وَكِلَ بِهِ سَبْعُوْنَ مَلَكًا يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِي فَمَنْ قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، قَالُوا آمِينَ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2957 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ رکن یمانی کے پاس کئی اور دعائیں ماثورہ ہیں جن کا ذکر مختلف حدیثوں میں موجود ہے ان میں سے ایک حدیث یہ ہے جس کو حاکم نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں جب کبھی (طواف کے دوران) رکن یمانی کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پایا اور حضرت جبرئیل نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں یہ دعاء کیجئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کون سی دعاء پڑھوں تو حضرت جبرئیل نے فرمایا یہ دعاء پڑھو: اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَاقَةِ وَمَوَاقِتِ الْخِزْيِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ o الٰہی! میں کفر اور فاقہ سے اور دنیا اور آخرت میں رسوائی کے حالات میں مبتلا ہونے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں (آپ مجھے کفر، فاقہ اور دارین کی رسوائی سے بچائیے)۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل نے فرمایا کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان ستر ہزار فرشتے متعین ہیں اور جب بندہ یہ مذکورہ دعاء پڑھتا ہے تو وہ سب آمین کہتے ہیں۔ (حدیث ختم ہوئی) یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جب کوئی شخص دعا کرے اور فرشتے اس پر آمین کہیں تو وہ دعا قبول ہو کر رہتی ہے، اس لئے حجاج کرام کو چاہئے کہ کعبہ اللہ شریف کی حاضری کو غنیمت جان کر طواف کے دوران یہاں مذکورہ دعاء کریں تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل ہو۔12