English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that a man demanded a debt from the Messenger of Allah (ﷺ) and was harsh with him. His companions intended to intervene, but he said: “Leave him, for the one with a right has a say. Buy a camel for him and give it to him.” They said: “We only find one better than his age.” He said: “Buy it and give it to him, for the best of you is the one who repays best.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٠٣٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: «دَعُوهُ؛ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، وَاشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، وَقَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنّهِ، قَالَ: «اشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ؛ فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3991
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (جس سے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا تھا) آپ سے تقاضا کیا اور اس میں شدت اور
سختی کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں اس کے اس رویہ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم (اس کو مارنے کے ارادہ سے) اٹھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا تم
لوگ اس کو اس طرح نہ دھکاؤ اس لئے کہ حقدار کو سخت سست کہنے کا حق ہے پھر (حضور ﷺ صحابہ
اکرام سے مخاطب ہو کر) فرمایا اس کو ایک اونٹ خرید کر دے دو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
عرض کیا (یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو دینے کے لئے تیار ہیں لیکن) اس وقت ہمارے پاس جو اونٹ
ہیں وہ اس کے (دیئے ہوئے) اونٹ سے عمر میں بڑے (اور بہتر) ہیں۔ حضور ﷺ ارشاد فرمائے
(کوئی حرج نہیں) انہیں میں سے ایک اونٹ خرید کر دے دو (اور یاد رکھو) کہ بہتر آدمی وہی ہے جو
(اپنے قرض کو) خوبی کے ساتھ ادا کرے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2401 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1601a (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس واقعہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال خلق اور انصاف پسندی اور عدل کا ثبوت ملتا ہے جو دلیل ہے آپ کے پیغمبر برحق ہونے کی چنانچہ اس واقعہ سے وہ شخص مسلمان ہوگیا۔ اس حدیث سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قرض میں لیے ہوئے مال سے اچھا مال دینا مستحب ہے بلکہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ زیادتی کے لئے کوئی شرط نہ کی گئی ہو ورنہ وہ سود ہو جائے گا۔