Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3044

Chapter: Entering Makkah and Performing Tawaf

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: Entering Makkah and Performing Tawaf

Zujajat al-Masabih 3044Volume 2

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported: "I never saw the Prophet (ﷺ) touch any part of the Ka‘bah except the two Yemeni Corners."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٤٤ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما)قَالَ: لَمْ أَرَ النَّبِيَّ ﷺ يَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا1 الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3608
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ (دوران طواف) صرف دو رکن جو یمن کی طرف ہیں یعنی رکن حجر اسود اور رکن یمانی کا (جو اس سے متصل ہے) استلام فرماتے دیکھا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1609 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1267a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

except the two Yemeni Corners

(1) The statement "except the two Yemeni Corners": Touching the Yemeni Corner is recommended without kissing.

Note 1

قوله

(۱)قوله: إلا الركنين اليمانيين وفي الدر المختار واستلم الركن اليماني وهو مندوب، لكن بلا تقبيل، ويكره استلام غيرها، انتهى. وهو الركن العراقي والشامي؛ لأنهما ليسا ركنين حقيقة، بل من وسط البيت؛ لأن بعض الحطيم من البيت، والكراهة تنيزيهية، كما في البحر». قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ بیت اللہ شریف کے چار ارکان (کونے، گوشے) ہیں جن پر بیت اللہ شریف قائم ہے ان میں سے دو یعنی رکن حجر اسود اور اس کے بعد کا رکن جو جانب یمن ہے، حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی بنیادوں پر اب تک قائم ہے برخلاف اس کے کعبہ اللہ شریف کے بقیہ دو رکن یعنی رکن عراقی اور رکن شامی کی بنیادیں اپنی اصلی حالت پر نہیں ہیں۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن حجر اسود کو بوسہ بھی دیتے تھے اور ہاتھ بھی لگاتے تھے، اس لئے کہ اس میں حجر اسود بھی ہے اور رکن یمانی کو صرف ہاتھ لگاتے تھے اور بقیہ دونوں رکنوں کو نہ ہاتھ لگاتے نہ بوسہ دیتے تھے، اس لئے کہ رکن عراقی اور رکن شامی کو ہاتھ لگانا یا بوسہ دینا مکروہ ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بحر کے حوالے سے مذکور ہے۔12