Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3063

(نویں ذوالحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(نویں ذوالحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان)

Zujajat al-Masabih 3063Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3629
عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے (دن) شام کے وقت اپنی امت (کے تمام گنہگاروں) کی بخشش کی (اللہ تعالیٰ سے) دعا مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دی گئی کہ میں نے آپ کی پوری امت کو بخش دیا ہے، سوائے ظالم کے (کیونکہ اس نے بندوں کے حقوق تلف کئے ہیں) اور میں اس سے مظلوم کے حقوق لوا دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ بارگاہ رب العزت میں) عرض کیا پروردگار آپ چاہیں تو مظلوم کو (اس کے حقوق کے بدلے میں) جنت عطا فرما کر ظالم کو بخش دیں لیکن حضور کی یہ دعا عرفہ کی شام تک قبول نہ ہوئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے (اور شب گزاری کے بعد) صبح پھر اسی دعا کو لوٹایا تو آپ کی (خواہش کے مطابق) یہ دعا قبول کر لی گئی (یعنی ظالم کی مغفرت کی خوشخبری بھی آپ کو دیدی گئی) راوی کا بیان ہے کہ (قبولیت دعا کی خوش خبری سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئے یا مسکرائے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسکراتے دیکھ کر) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہو جائیں (یا رسول اللہ) معمولاً ایسے موقع پر آپ ہنسا نہیں کرتے، آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے! آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی ہے اور پوری امت کو بخش دیا ہے تو اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا اور واویلا کرتا ہوا بھاگ نکلا۔ اس کی یہ پریشانی اور بدحواسی دیکھ کر مجھے ہنسی آ گئی۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور بیہقی نے بھی کتاب البعث والنشور میں اس طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3013 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

And forgave my ummah

(1) "And forgave my ummah" - Does Hajj expiate major sins? Some scholars say yes, like Harbi who embraced Islam, citing this hadith. Al-Bayhaqi said this hadith has many supporting narrations mentioned in Shu'ab al-Iman. If authenticated by these narrations, it would be strong evidence. Otherwise, Allah says: "And He forgives what is less than that for whom He wills" (4:48). Wrongdoing between people is less severe than shirk. Ibn al-Mubarak narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Allah has forgiven the people of Arafah and Muzdalifah and guaranteed to settle their debts." Umar stood up and asked: "O Messenger of Allah, is this exclusively for us?" He replied: "For you and those who come after you until the Day of Judgment." Umar exclaimed: "How abundant is the goodness of our Lord!" The full discussion is in Fath al-Bari, which cites additional hadiths. In summary, while Ibn Majah's hadith is weak, it has supporting evidence that strengthens it, and the Qur'anic verse also supports it. Other evidence includes the hadith in Bukhari: "Whoever performs Hajj without obscenity or wickedness returns as sinless as the day his mother bore him," and the hadith in Muslim: "Islam wipes away what came before it." Fath al-Bari seems to lean toward the view that even rights between people may be forgiven, as held by Imam al-Sarakhsi in Sharh al-Siyar al-Kabir and extended by some scholars to include martyrs. Al-Munawi attributed this view to al-Qurtubi. However, some scholars like Abu Hanifa held that only sins against Allah (not human rights) are forgiven, unless the wronged party is compensated. Al-'Iyadh said: "The consensus of Ahl al-Sunnah is that major sins require repentance, and no one claims that financial obligations are waived." In summary, as stated in Al-Bahr al-Ra'iq: "The matter is speculative - we cannot definitively say Hajj expiates major sins against Allah, let alone human rights." Al-Bayhaqi cautioned: "No Muslim should deceive himself into thinking Hajj automatically settles all accounts, for disobedience is ominous and opposing the Almighty in His commands is grave." However, one may optimistically hope for forgiveness for those who perform an accepted Hajj with sincere effort. But who can be certain about this for themselves or others? Even the righteous cannot be certain. The balanced approach is to remain between hope and fear. (Al-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar, Al-Maraqi - summarized)

Note 1

قوله

(۱) قوله: وغفر لأمتي إلخ : هل الحج يكفر الكبائر ؟ قيل: نعم، كحربي أسلم لهذا الحديث، وقال البيهقي هذا الحديث له شواهد كثيرة، ذكرناها في كتاب الشعب، فإن صح بشواهده ففيه الحجة، وإلا فقد قال تعالى: ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ) (النساء: ٤٨) وظلم بعضهم بعضا دون الشرك، روى ابن المبارك أنه قال: إن الله عَزَّ وَجَلَّ قد غفر لأهل عرفات وأهل المشعر وضمن عنهم التبعات، فقام عمر، فقال: يا رسول الله ، هذا لنا خاصة؟ قال: هذا لكم، ولمن أتى من بعدكم إلى يوم القيامة، فقال عمر الله كثر خير ربنا وطاب. وتمامه في «الفتح»، وساق فيه أحاديث أخر، والحاصل أن حديث ابن ماجه وإن ضعف فله شواهد تصححه، والآية أيضا تؤيده، ومما يشهد له أيضًا حديث البخاري مرفوعا: من حج ولم يرفث ولم يفسق رجع من ذنوبه كيوم ولدته أمه، وحديث مسلم مرفوعاً: إن الإسلام يهدم ما كان قبله، وإن الهجرة تهدم ما كان قبلها، وإن الحج يهدم ما كان قبله وظاهر كلام «الفتح» الميل إلى تكفير المظالم أيضًا، وعليه مشى الإمام السرخسي في شرح السير الكبير وقاس عليه الشهيد الصابر المحتسب، وعزاه أيضا المناوي إلى القرطبي. وقيل : غير المتعلقة بالآدمي كذمي أسلم، وقال عياض: أجمع أهل السنة أن الكبائر لا يكفرها إلا التوبة، ولا قائل بسقوط الدين، ولو حقا الله تعالى كدين صلاة وزكاة. نعم، أيم المطل. وتأخير الصلاة ونحوها يسقط، وهذا معنى التكفير على القول به والحاصل كما في البحر»: أن المسألة ظنية، فلا يقطع بتكفير الحج للكبائر من حقوقه تعالى، فضلا عن حقوق العباد، ولذا قال البيهقي : فلا ينبغي لمسلم أن يغرّ نفسه بأن الحج يكفر التبعات؛ فإن المعصية شؤم وخلاف الجبار في أوامره ونواهيه عظيم انتهى. نعم، يغلب على الظن رجاء المغفرة لمن حج حجا مبرورًا وسعيا مشكورًا، وأين من يجزم بذلك في نفسه أو غيره، وإن كان عالما أو صالحا في علو مقامه هنالك، فمن المعلوم أن غير المعصوم يجب أن يكون بين الخوف والرجاء، الدر المختار» و رد المحتار» و«المرقاة» ملتقط منها.

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا آلاف صلوات۔ امت مرحومہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو چاہیں گے اس کے حقوق العباد بھی معاف کروا دیں گے لیکن شرک معاف نہیں ہوتا جیسا آیت شریفہ میں ارشاد ہے ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ“ (سورۃ نساء،پ:5،ع:18،آیت نمبر:116)(اللہ تعالیٰ مشرک کو نہیں بخشتے لیکن مشرک کے سوا جس کو چاہیں بخش دیتے ہیں) تو حقوق العباد شرک کے سوا ہیں، اس لئے ان کی بخشش کی امید ہے اس کی تائید میں بخاری کی مرفوع حدیث بھی ہے کہ جو حج کرے اور (حج کے دوران) فساد اور گناہ نہ کرے تو وہ ایسا پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدائش کے وقت گناہوں سے پاک و صاف تھا۔ اور اسی طرح مسلم کی بھی ایک مرفوع حدیث ہے کہ اسلام لانے سے (زمانہ کفر کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور ہجرت سے بھی (قبل ہجرت کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور حج سے بھی (حج سے پہلے کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ ان احادیث شریفہ کی وجہ سے فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے حج کی وجہ سے حقوق العباد کے معاف کر دیئے جانے کو ترجیح دی ہے اور شرح السیر الکبیر میں امام سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے اور امام صدر الشہید بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل السنہ والجماعۃ کی اس بات پر اجماع ہے کہ کبائر توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ خواہ حقوق اللہ ہوں، جیسے ترک نماز اور ترک زکوۃ یعنی ان کو بہر صورت قضاء کرنا پڑے گا۔ ہاں حج کی وجہ سے تاخیر کا گناہ معاف ہوگا۔ جب حقوق اللہ کا یہ حال ہے تو حقوق العباد کیسے معاف ہوں گے اسی وجہ سے امام بیہقی نے فرمایا ہے کہ کسی بندہ مسلم کو اس دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کہ حج سے حقوق العباد بھی معاف ہو جاتے ہیں اس لئے کہ گناہ بدبختی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف بڑی جسارت اور بے باکی ہے۔ ہاں جس کسی کو حج مبرور اور مقبول نصیب ہو جائے تو اس کی مغفرت کی امید ہے لیکن وہ کون مرد خدا ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میرا حج مقبول ہے اگرچہ کہ وہ عالم باعمل ہو اور بڑا نیک و کار ہو، جب کہ یہ معلوم ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سوا سارے انسانوں کا مقام خوف اور رجاء کے درمیان ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ گناہوں پر جرت نہ کریں اور حقوق العباد کے ضائع کرنے سے بچیں اور سابقہ گناہوں پر توبہ اور استغفار اور ان کی تلافی کی کوشش کرتے رہیں۔ یہ مضمون درمختار، ردالمحتار، مرقات اور اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔12