Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3078a

(اس باب میں غصب اور عاریہ کا بیان ہے)

In this book

Current reading

Sales

(اس باب میں غصب اور عاریہ کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3078aVolume 2

اردو

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی سے کوئی چیز (عاریتاً یا بطور غصب یا چرا کر) لے لی جائے تو لینے والے پر اس چیز کی ادائی تک واپسی کی ذمہ داری رہتی ہے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور دارقطنی اور بیہقی نے اپنی سُنن میں عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ وہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا یعنی عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امانت رکھنے والا شخص خائن نہ ہو تو (امانت رکھی ہوئی چیز کے تلف ہو جانے پر) تاوان نہ ہوگا۔ اور (اس طرح) مستعار لینے والا اگر خائن نہ ہو تو (مستعار چیز کے تلف ہو جانے پر بھی) تاوان عائد نہ ہوگا۔ اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی کے پاس کوئی امانت رکھے (اگر وہ امانت تلف ہو جائے) تو امانت دار پر تاوان عائد نہ ہوگا۔ اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا عاریتاً لی ہوئی چیز بمنزلہ امانت کے ہے (تلف ہو جانے کی صورت میں) اس پر تاوان نہ ہوگا البتہ عاریتاً لینے والا زیادتی کرے (یعنی اگر وہ خیانت کر جائے تو تاوان عائد ہوگا)۔ اور ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ (کسی چیز کو) عاریتاً لینے والے شخص پر (اس چیز کے تلف ہو جانے کی صورت میں) تاوان نہیں ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1266 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3561 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2400 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2401 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

return

(1) Scholars differ on borrowing. Hanafis say it is a trust; if it perishes without transgression, there is no guarantee, per Ali, Ibn Mas‘ud, Al-Hasan, An-Nakha‘i, Ash-Sha‘bi, Ath-Thawri, Umar ibn Abdul-Aziz, Shurayh, Al-Awza‘i, Ibn Shubrumah, and Ibrahim. Shurayh judged thus for eighty years in Kufa. Ash-Shafi‘i and Ahmad say it is guaranteed, per Ibn Abbas, Abu Hurairah, Ata, and Ishaq, citing this hadith, Safwan ibn Umayyah’s hadith, and Abu Umamah’s. Hanafis cite the subsequent hadiths and say this hadith supports them, as “return” is obligatory without implying guarantee. If guarantee were implied, it would apply to pledges and deposits. [From Umdat Al-Qari]. Al-Hidayah says the usurper must return the item while it exists, per “The hand is responsible…” and “No one may take his brother’s property in jest or earnest; if taken, return it.” Safwan’s hadith is shaky in chain and text, per Al-Tamhid. Even if sound, “guaranteed” means guaranteed return, or a borrowing with a guarantee condition is guaranteed per Hanafis. Abu Umamah’s hadith does not indicate guarantee, as Allah says: “Indeed, Allah commands you to render trusts to whom they are due” (An-Nisa: 58). If a trust perishes, return is not required. [From Umdat Al-Qari].

Note 1

قوله

(۱) قوله : على اليد ما أخذت إلخ : اختلف العلماء في العارية. فقال أصحابنا الحنفية العارية أمانة، إن هلكت من غير تعد لم تضمن، وهو قول علي وابن مسعود والحسن والنخعي والشعبي والثوري وعمر بن عبد العزيز وشريحوالأوزاعي وابن شبرمة وإبراهيم، وقضى شريح بذلك ثمانين سنة بالكوفة. وقال الشافعي: تضمن وبه قال أحمد، وهو قول ابن عباس وأبي هريرة وعطاء وإسحاق، واحتج الشافعي ومن معه بأحاديث منها هذا الحديث، ومنها حديث صفوان ابن أمية، ومنها حديث أبي أمامة. ولنا الأحاديث التي ذكرت بعد، وحجة هذا الحديث أيضًا ظاهر في الدلالة لمذهبنا؛ لأن الأداء فيه فرض ولا يلزم منه الضمان، ولو لزم من اللفظ الضمان للزم الخصم أن يضمن المرهون والودائع؛ لأنها مما قبضته اليد. كذا في عمدة القاري، ولذلك قال في «الهداية» وعلى الغاصب رد العين المغصوبة، معناه ما دام قائما ؛ لقوله علا على اليد ما أخذت حتى ترد ، وقال : لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا، فإن أخذه فليرده عليه، انتهى. وأما حديث صفوان بن أمية فهو مضطرب سندًا ومتنا، وجميع وجوهه لا يخلو عن نظر، ولهذا قال صاحب التمهيد»: الاضطراب فيه كثير، ولا حجة فيه عندي في تضمين العارية، انتهى ثم على تقدير صحته قوله: مضمونة» أي مضمونة الرد عليك بدليل قوله: «حتى يؤديها إليك، ويحتمل أن يريد اشتراط الضمان والعارية بشرط الضمان مضمونة في رواية للحنفية، والجواب عن حديث أبي أمامة أنه ليس فيه دلالة على التضمين؛ لأن الله تعالى قال: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ (النساء: (٥٨) ، فإذا تلفت الأمانة لم يلزمه ردُّها. قاله في «عمدة القاري».

Note 1

ف: واضح ہو کہ مستعار چیز کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔ ہمارے ائمہ احناف فرماتے ہیں کہ مستعار لی ہوئی چیز بمنزلہ امانت کے ہے اگر وہ بغیر کسی زیادتی کے تلف ہو جائے تو مستعار لینے والے پر تاوان عائد نہ ہوگا۔ حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت حسن بصری، امام نخعی، امام شعبی، امام ثوری، حضرت عمر بن عبدالعزیز قاضی شریح، امام اوزاعی، امام ابن شبرمہ رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے اور قاضی شریح نے اسی قول پر کوفہ میں اسی (80) برس تک مقدمات کے فیصلے کئے ہیں۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول ہے کہ مستعار لی ہوئی چیز کے تلف ہو جانے پر مطلقاً تاوان عائد ہوگا خواہ مستعیر کی غفلت کو اس میں دخل ہو یا نہ ہو، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے صدر کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت عطاء اور امام اسحاق رضی اللہ عنہم کا بھی یہی قول ہے لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سمرہ کی حدیث سے جو استدلال کیا ہے حقیقت میں اس سے حنفی مسلک کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ حضرت سمرہ کی حدیث سے مستعار چیز کی واپسی کا وجوب ثابت ہو رہا ہے نہ کہ تاوان کا لزوم! اس کے علاوہ نص قرآنی سے بھی مطلقاً امانت رکھی ہوئی چیز کے واپسی کا وجوب حاصل ہوتا ہے ارشاد ہو رہا ہے: ”إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمٰنٰتِ إِلٰى أَهْلِهَا“۔ (سورہ نساء، پ:5، ع:8 آیت نمبر:58) اس طرح ثابت ہوا کہ امانت رکھی ہوئی چیز اگر تلف ہو جائے اور اس چیز کے تلف ہونے میں امانت دار کی غفلت کو دخل نہ ہو تو امانت دار پر تاوان عائد نہ ہوگا۔ یہ ”عمدة القاری“ سے ماخوذ ہے۔