Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3102a

Chapter: Hiring

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Hiring

Zujajat al-Masabih 3102aVolume 2

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Allah did not send a prophet except that he herded sheep.” His companions asked, “And you?” He said: “Yes, I used to herd them for some carats for the people of Makkah.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٠٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ(رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ». فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، كُنْتُ1 أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4079
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو نبی بنا کر بھیجا ہے انھوں نے ضرور بکریاں چرائی ہیں، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کیا آپ نے بھی؟ (یا رسول اللہ بکریاں چرائی ہیں) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! میں چند قیراط پر (بطور اُجرت) اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2262 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) The statement: I used to herd them for some carats for the people of Makkah—this narration proves the permissibility of hiring for herding sheep, and by extension, other animals are included in this permissibility. As stated in Nayl Al-Awtar. It is also said in Al-Marqah: It indicates the hiring of free individuals.

Note 1

قوله

(۱)قوله: كنت أرعى على قراريط لأهل مكة وفي الحديث دليل على جوا الإجارة على رعي الغنم، ويلحق بها في الجواز غيرها من الحيوانات. قاله في نيل الأوطار». وقال في المرقاة»: وفيه استئجار الأحرار.

Note 1

ف: واضح ہو کہ بکریاں چرانے میں حکمت یہ ہے کہ نبی گلہ بانی سیکھیں جس سے سرداری کی تربیت حاصل ہو اور گلہ بانی کی مشقت سے صبر اور تحمل کی عادت ہو اس وجہ سے کہ سرداری کی حیثیت اپنی قوم کے ساتھ ایسی ہے جیسے چرواہے کی حیثیت بکریوں کے ساتھ۔ انبیاء کے بکریاں چرانے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسان کو سمجھیں کہ ہم کیا تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے کس اعلیٰ مرتبہ پر ہم کو پہنچایا۔