English
Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Five creatures are harmful and may be killed inside the sanctuary and outside it: the snake, the speckled crow, the mouse, the rabid dog, and the kite."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٤٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «خَمْسُ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلَّ وَالْحَرَمِ: الحَيَّةُ وَالْغُرَابُ1 الْأَبْقَعُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْخُدَيَّا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3736
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ پانچ ایسے موذی جانور ہیں کہ
جن کو (ہر حالت میں) ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ خواہ حدود حرم میں ہوں یا حرم سے باہر ہوں (خواہ
مارنے والا احرام کی حالت میں ہو یا بغیر احرام کے ہو) وہ جانور یہ ہیں۔
(1) سانپ (2) چتکبرا کوا (3) چوہا (4) کاٹ کھانے والا کتا اور (5) چیل۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1829 (unverified) 92% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1198a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱)قوله: الغراب الأبقع والغراب عندنا المراد به الأبقع لصراحته في هذا الحديث، والغراب في كتبنا أنه على ثلاثة أقسام، أحدها: الذي يأكل الحبوب فقط، وهو حلال اتفاقا. والثاني: الذى يأكل الجيف فقط، وهو حرام اتفاقا. والثالث: هو الذي يخلط بين أكلهما، وهو مكروه عند أبي يوسف وحلال عندهما . كذا في العرف الشذي».
Note 1
ف: واضح ہو کہ خشکی کے شکار کی دو قسمیں ہیں: (1) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ (2) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔ تو ایسے جانور جن کا گوشت حلال ہے محرم کو ان کا شکار کرنا جائز نہیں ہے جیسے ہرن، خرگوش اور ایسے پرندے بھی جن کا گوشت حلال ہے ان کا شکار بھی جائز نہیں۔ خواہ وہ خشکی پر رہنے والے ہوں یا سمندر پر، اس لئے تمام پرندوں کا شمار خشکی کے جانوروں میں ہوتا ہے اس لئے کہ ان کی پیدائش خشکی پر ہوتی ہے اور وہ صرف غذا کے لئے ضرورۃً سمندر میں جاتے ہیں۔ (1) ایسے جانور جو طبعاً موذی ہوں جیسے بھیڑیا، شیر وغیرہ تو محرم ان جانوروں کو ہر حالات میں، ہر مقام پر ہلاک کر سکتا ہے، اس لئے کہ بغیر کسی سبب کے اذیٰ کا دفع کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ حدیثوں میں ایسے موذی جانور کو ہلاک کرنے کی اجازت دی ہے۔ (2) موذی جانوروں کی ایک قسم وہ ہے جو طبعاً موذی نہیں ہوتے بلکہ انسان کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں جیسے لومڑی، چوہا وغیرہ تو آیت شریفہ ” لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ“، میں ایسے ہی جانوروں کا شکار ممنوع ہے۔ بدائع، بذل المجہود۔12