Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3150

Chapter: What the Muhrim Should Avoid

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: What the Muhrim Should Avoid

Zujajat al-Masabih 3150Volume 2

English

Yahya bin Sa'id reported that a man came to Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) asking about locusts he killed while in ihram. Umar called Ka'b, who said, "A dirham." Umar replied, "You value dirhams highly—a date is better than a locust!"

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٥٠ - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ فَسَأَلَهُ عَنْ جَرَادَاتٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمُ، فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ: تَعَالَ حَتَّى نَحْكُمَ، فَقَالَ كَعْبٌ: دِرْهَمْ، فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ: إِنَّكَ لَتَجِدُ [الدَّرَاهِمَ] لَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3738
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ احرام کی حالت میں اگر کوئی شخص ایک ٹڈے کو مار دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت عمر نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے فرمایا آؤ تا کہ ہم اس مسئلہ پر حکم لگائیں تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا (ایک ٹڈے کو مارنے کا صدقہ) ایک درہم ہوگا۔ (یہ سن کر) حضرت عمر نے کعبؓ سے فرمایا تم کو درہم ہر وقت کہاں سے ملیں گے (حقیقت تو یہ ہے کہ) ایک کھجور ایک ٹڈے مارنے کے معاوضہ میں کافی ہے (یعنی ٹڈا اتنی حیثیت کا نہیں کہ احرام کی حالت میں مارنے پر درہم خیرات کیا جائے بلکہ ایک کھجور ایک ٹڈے کے معاوضہ میں بہت کافی ہے)۔ اس کی روایت امام مالک اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 936 (unverified) 30% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2707 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2707

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ احرام کی حالت میں جو کوئی ٹڈے کو مارے تو جو چاہے خیرات کر دے، اس لئے کہ اس کا شکار دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے اس لئے شکار کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر ضروری ہے اور ٹڈے کو مارنا یا پکڑنا بغیر کسی تدبیر کے ممکن ہے، اس لئے ٹڈے کا مارنا عام شکار کی تعریف میں داخل نہیں ہے اس لئے احرام کی حالت میں ٹڈے کو مارنے سے کچھ خیرات کر دینا کافی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر حضرت ابن عباس اور حضرت عطاء بن ابی رباح کا یہی قول ہے اور امام اعظم رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔12