Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3156

Chapter: Being Prevented and Missing Hajj

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: Being Prevented and Missing Hajj

Zujajat al-Masabih 3156Volume 2

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) ordered his companions to replace the sacrifices they had made during the Treaty of Hudaybiyah when they performed the compensatory Umrah the following year.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٥٦ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَمَرَ أَصْحَابَهُ1 أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوْا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3747
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حدیبیہ کے سال جب کہ کفار قریش نے عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا تو خارج حرم اپنی اونٹنیوں کو ذبح کر دیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صحابہ کو حکم دیا کہ ان جانوروں کے بدلہ میں (جو خارج حرم ذبح کئے گئے تھے) عمرۃ القضاء کے موقع پر اور جانور ذبح کر دیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1864 (unverified) 70% confidence · Validation similarity: 0.771
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2711 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 2711

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أمر أصحابه أي بعض أصحابه، والمراد بهم الذين ذبحوا هداياهم خارج الحرم، يعني أمرهم بأن ينحروا بدل ما نحروا في السنة المتقدمة؛ لعدم إجزاء الأول بعدم وقوعه في الحرم. قال الطيبي: يستدل بهذا الحديث من يوجب القضاء على الحصر إذا حل حيث أحصر، ومن يذهب إلى أن دم الإحصار لا يذبح إلا في الحرم، فإنهم أمرهم بالإبدال؛ لأنهم نحروا هداياهم في الحديبية خارج الحرم، انتهى. وفيه دلالة على أنه ، ومن تبعه ذبحوا دم إحصارهم في أرض الحرم، وهو مذهب أبي حنيفة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صاحب مرقات نے طیبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن حضرات کے پاس احصار کی وجہ سے قربانی دینا واجب ہے ان کا یہ قول ہے کہ دمِ احصار حدود حرم میں دیا جائے اسی وجہ سے عمرۃ القضاء کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے وقت جن صحابہ نے خارج حرم قربانی دی تھی ان کو بدلہ میں داخل حرم قربانی دینے کا حکم دیا اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جو صحابہ آپ کے قریب تھے انہوں نے داخل حرم قربانی دی تھی اس لئے ان حضرات نے اس موقع پر مکرر قربانی نہیں دی اور یہی مذہب حنفی ہے۔12