العربية
Typed, pending editorial approval
۳۱۷۲ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه)، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللهِ ، فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا، وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالُ. قَالَ: «يَقْضِي اللهُ فِي ذَلِكَ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى عَمِّهِمَا، فَقَالَ: أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدِ الظُّلُتَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه ، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2092 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2720 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ایام جاہلیت میں عورت کو میراث نہیں دی جاتی تھی، اسی وجہ سے سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے بھائی نے ان کا پورا مال لے لیا تو سعد بن الربیع کی بیوی رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کی بیوی سے فرمایا کہ حکم الٰہی کا اس بارے میں انتظار کرو تو آیت میراث ”يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ...... الى آخرها (سورۃ نساء، پ:4، ع:2، آیت نمبر:11) نازل ہوئی۔ جس کی وجہ سے حضرت سعد کی دونوں بیٹیوں میں دو تہائی یعنی کل مال کے 24 حصے کئے گئے 16 حصہ دونوں بیٹیوں کو اور تین حصے بیوی کو اور پانچ حصہ حضرت سعد کے بھائی کو ملے۔12 (مرقات، حاشیہ مشکوٰۃ)۔