English
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated the Prophet (ﷺ) said: "Whoever performs Hajj then visits my grave after my death is like one who visited me during my life."
العربية
Typed, pending editorial approval
۳۱۹۷ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ1 قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3798
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص حج کرے پھر میرے
بعد میری قبر کی زیارت کرے تو اس کی مثال ایسے شخص کی ہوگی جس نے میری زندگی میں میری
زیارت کی۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Then visits my grave": The sequential conjunction indicates that visiting after Hajj is most appropriate, in line with the principle of fulfilling obligations before voluntary acts. Al-Hasan reported that Abu Hanifah gave a detailed ruling: If the Hajj is obligatory, one should perform Hajj first then visit; if begun with visiting, it is permissible. For voluntary Hajj, one may choose, though starting with Hajj is preferable - to prioritize Allah's right over the Prophet's right, just as greeting the mosque precedes visiting the Prophet's grave. As in Al-Mirqat.
Note 1
(۱)قوله: فزار قبري: الفاء التعقيبية دالة على أن الأنسب أن تكون الزيادة بعد الحج كما هو مقتضى القواعد الشرعية من تقديم الفرض على السنة، وقد روى الحسن عن أبي حنيفة تفصيلا حسنًا، وهو أنه إن كان الحج فرضا، فالأحسن للحاج أن يبدأ بالحج، ثم يثني بالزيارة، وإن بدأ بالزيارة جاز، وإن كان الحج نفلا فهو بالخيار، فيبدأ بأيهما شاء، والأظهر أن الابتداء بالحج أولى؛ لإطلاق الحديث، ولتقديم حق الله على حقه الله ، ولذا تقدم تحية المسجد النبوي على زيارة المشهد المصطفوي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي“ (جو شخص حج کرے، پھر میرے روضہ کی زیارت کرے) یہاں لفظ ”فَزَارَ“ میں ”ف“ ”تَعْقِیْبِیَّہ“ ہے، جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے بعد کی جائے۔ جیسا کہ قواعد شریعت کا اقتضاء ہے کہ فرض کو سنت پر مقدم کیا جائے چنانچہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر فرض حج کی ادائی کے لئے روانگی ہو تو بہتر یہ ہے کہ حازم حج پہلے حج کرے پھر زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قصد کرے اور اگر حج نفل ادا ہو رہا ہو تو اختیار ہے کہ حج یا زیارت میں جس سے چاہے ابتداء کرے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ہر دو صورتوں میں جمع ہی سے ابتداء کرے۔ جیسا کہ صدر حدیث سے مطلقاً پہلے حج کرنا اور بعد میں زیارت کرنا ثابت ہوتا ہے اور یہ واضح بات بھی ہے کہ حق اللہ کو مقدم کرنا چاہئے۔ حق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جیسا مسجد نبوی میں حاضری دی جاتی ہے تو داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد ادا کی جاتی ہے، پھر روضہ اقدس کے پاس حاضر ہو کر سلام عرض کیا جاتا ہے۔ (ماخوذ از: ” مرقات“)12