اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4266
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ علیہ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت
عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے ایسی حاملہ عورت (کی عدت) کے بارے
میں دریافت کیا گیا جس کا شوہر انتقال کر چکا ہو تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ (ایسی عورت کی
عدت) وہ ہوگی جو دو مدتوں میں (یعنی وضع حمل یا چار ماہ دس دن) سے جو مدت آخر میں ختم ہو اور
حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا ایسی عورت کو جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کو (دوسرے سے نکاح کا حق)
جائز ہوگا (یہ سن کر) ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور
اس مسئلہ کو آپ سے دریافت کیا تو ام سلمہؓ نے فرمایا کہ سُبَیعَہ اسلمیہ کو اپنے شوہر کی وفات کے پندرہ
دن بعد بچہ پیدا ہوا اور ان کو دو آدمیوں نے اپنے نکاح کا پیام بھیجا ان میں ایک جوان تھا اور دوسرا
ادھیڑ، تو انھوں نے اپنا رجحان جوان کی طرف کیا تو ادھیڑ شخص نے کہا (تمہارا عقد کیونکر ہوگا جبکہ) تم
نے تو عدت ہی پوری نہیں کی ہے؟ اور ان کے گھر والے (یعنی ان کے ولی) موجود نہیں تھے اور اس
(ادھیڑ شخص) کو امید تھی کہ اس خاتون کے گھر والے آ جائیں تو (نکاح کے لئے) اس کو ترجیح دیں
گے۔ وہ خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پورا واقعہ سنایا تو حضور
ﷺ نے ارشاد فرمایا تم نے اپنی عدت پوری کرلی ہے تو تم جس سے چاہو عقد کرلو۔ اس کی روایت
امام مالکؒ نے موطا میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3322 (unverified) 30% confidence
- Candidate: Muwatta Malik 1239 (unverified) 20% confidence
Mishkat (candidate) 3322
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "You are permissible, so marry whomever you wish" It is stated in "Al-‘Arf ash-Shadhi": What indicates the non-necessity of guardians’ expression is what is in Malik’s "Muwatta": "Her family was absent, etc." In it, he (peace be upon him) said to her: "You are permissible, so marry whomever you wish, etc." The Hadith is elevated, and it is permissible for her to marry without the guardians’ presence
Note 1
(۱)قوله : قد حللت فانكحي من شئت: وقال في العرف الشذي»: ومما يدلُّ على عدم الضرورة العبارة من الأولياء ما في موطأ مالك»: وكان أهلها غيبا إلخ، وفيه قال(عليه السلام) لها : قد حللت فانكحي من شئت إلخ، الحديث مرفوع، ويجوز لها لنبي ﷺ النكاح بدون حضور الأولياء.