English
Salamah ibn al-Akwa‘ (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) permitted temporary marriage in the year of Awtaas for three days, then prohibited it. Narrated by Muslim. In another narration by him from Sabrah al-Juhani, who was with the Messenger of Allah (ﷺ), he said: "O people, I had permitted you to enjoy women, but Allah has forbidden it until the Day of Resurrection. Whoever has any of them, let her go, and do not take back anything you gave them." Tirmidhi narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them): Temporary marriage was only at the beginning of Islam. A man would arrive in a town where he had no acquaintance, so he would marry a woman for as long as he estimated he would stay, and she would guard his belongings and prepare his food until the verse was revealed: Or those your right hands possess [Al-Mu’minun: 1]. Ibn Abbas said: Every private part other than these is forbidden.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٤٩ - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ (رضي الله عنه) قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٍ فَلْيُخَلَّ سَبِيلَهُ، وَلَا تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا».
وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةً، فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ، فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيَّهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ: {أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} (المؤمنون: 1) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجِ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ.
اردو
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ اوطاس کے موقع پر تین دن کے لئے (نکاح) متعہ کی اجازت دی پھر
(ہمیشہ کے لئے) اس سے منع فرمایا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور مسلم کی ایک اور روایت میں سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ
(حجۃ الوداع کے سال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں کے ساتھ (نکاح) متعہ کی اجازت دی تھی (وہ
اجازت ختم ہوگئی اور (اب) بیشک اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے اس کو حرام فرما دیا ہے۔ پس
جس کسی کے پاس ایسی عورتوں میں سے کوئی (عورت) ہو تو وہ اس کو چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ اس
کو دیا ہو واپس نہ لو۔
اور ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے: آپ نے
فرمایا کہ (نکاح) متعہ ابتداء اسلام میں (جائز) تھا (اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ) ایک شخص
(نئے) شہر میں جاتا جہاں لوگوں سے شناسائی نہ ہوتی تھی تو وہ کسی عورت سے اتنے دنوں کے لئے
شادی کرتا جتنے دن وہ ٹھہرنا چاہتا۔ وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کا کھانا پکاتی
یہاں تک یہ آیت نازل ہوئی ”إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ“ (سورہ
مومنون، پ:18، ع:1، آیت نمبر:6) یعنی مرد صرف اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے صحبت
کر سکتے ہیں اس کی تفسیر میں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہر شرمگاہ جو ان دونوں
کے سوا ہو حرام ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1406d (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) The statement: "Shayyahu": Meaning his cooked food, as in "Al-Qamus": He cooked the meat, shayyahu, and it was cooked.