English
Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) bought a slave for two black slaves after discovering the seller was enslaved. He then ensured future transactions verified freedom status.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٦٤ - وَعَنْ جَابِرٍ(رضي الله عنه) ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ ﷺ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدُ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: «بِعْنِيهِ» فَاشْتَرَاهُ1 بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعُ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ [أَمْ /أَوْ حُرٌّ]. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَقَدْ2 روي التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحُ وَرَوَاهُ الْبَزَارُ فِي مُسْنَدِهِ، وَقَالَ: لَيْسَ فِي الْبَابِ أَجَلُّ إِسْنَادًا مِنْهُ.
وَرَوَى ابْنُ مَاجَه عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدِ». وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً. فِيْهِ الْحَجَاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ3 ابْنُ حِبَّانِ: هُوَ صَدُوْقُ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.
وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «الْحَيَوَانُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدَةٍ لَا يَصْلُحُ نَسِيئًا، وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدِ». وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي مُسْنَدِهِ مُرْسَلًا عَنْ عَبْدِ الكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُصَدِّقًا لَهُ، فَجَاءَ بِظَهْرِ مُسِنَّاتٍ، فَلَمَّا نَظَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ: «هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَبِيعُ الْبِكْرَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ بِالْبَعِيْرِ الْمُسِنِّ، يَدًا4 بِيَدٍ، وَعَلِمْتُ مِنْ حَاجَةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «فَذَاكَ إِذَا».
وَعِنْدَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَلَيَّ أَنَّهُ كَرِهَ بَعِيْرًا بِبَعِيْرَيْنِ نِسِيئَةً. وَكَذَا أَخْرَجَهُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْهُ.
وَأَخْرَجَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَعِيْرِ بِبَعِيْرَيْنِ إِلَى أَجَلٍ، فَكَرِهَهُ.
وَرَوَى مُحَمَّدُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْبَعِيْرِ بِالْبَعِيْرَيْنِ إِلَى أَجَلٍ وَالشَّاةِ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ.
وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الله أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَمَرَهُ أَنْ يُجَهَّزَ جَيْشًا، فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيْرَيْنِإلَى أَبِلِ الصَّدَقَةِ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3886Noor 3887Noor 3888Noor 3889Noor 3890Noor 3891Noor 3892Noor 3893Noor 3894Noor 3895
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نبی کریم ﷺ
کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ہجرت کی بیعت کر لیا اور حضور ﷺ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ غلام
ہے۔ پھر (کچھ عرصہ کے بعد) اس کا مالک اس کی تلاش کرتا ہوا آیا (اور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا)
(حضور ﷺ نے اس کو مناسب نہ سمجھا کہ اس کی ہجرت باطل ہو جائے اس لئے) آپ نے اس
کے مالک سے فرمایا تم اس کو مجھے بیچ دو (چنانچہ وہ صاحب اس پر راضی ہو گئے) تو آپ نے دو سیاہ
رنگ کے غلام کے بدلے ان کو خرید لیا اور اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک
آپ اس سے دریافت نہ فرما لیں کہ وہ غلام ہے یا آزاد۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور ترمذی، ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی ان سب محدثین نے سمرہ بن
جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جانور کے بدلہ جانور کو ادھار بیچنے سے
منع فرمایا ہے۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اور بزّار نے اس کی روایت اپنی سند میں کی ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ اس
بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان میں اس سے بہتر سند والی حدیث کوئی نہیں۔
اور ابن ماجہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا ہے کہ ایک جانور کے بدلہ دو جانوروں کو خریدنے یا بیچنے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہ ہم جنس
ہوں یا نہ ہوں) جب کہ معاملہ دست بہ دست ہو (جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے)۔ البتہ
حضور ﷺ نے (جانور کے بدلے جانور کی خرید و فروخت میں) ادھار معاملہ سے منع فرمایا ہے۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہیں۔ ان کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے
کہ وہ صدوق ہیں ان کی حدیثوں کی روایت درست ہے۔
اور ترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ
نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک جانور کے بدلہ دو جانوروں کی خرید و فروخت ادھار درست نہیں۔ ہاں
دست بدست ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں مرسلاً عبدالکریم جزری سے
روایت کی ہے کہ زیاد ابن ابی مریم جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں انہوں نے
عبدالکریم کو یہ واقعہ سنایا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے عامل کو (زکوٰۃ کی وصولی کیلئے) بھیجا تو وہ بڑی عمر
کے اونٹ لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو (عامل زکوٰۃ سے) ارشاد فرمایا تم خود
بھی ہلاک ہوئے اور ہلاک بھی کیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں نے دو یا تین کم عمر اونٹوں
کے بدلہ بڑا اونٹ دست بدست لیا ہے! اس لئے کہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ آپ کو بڑے بڑے
اونٹوں کی ضرورت ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر یہ صورت ہے تو پھر ٹھیک ہے۔
اور عبدالرزاق نے سعید بن مسیّب کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ
سے اس طرح روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک اونٹ کے بدلہ دو اونٹ ادھار لینے کو
مکروہ سمجھتے تھے۔ اور ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
اور عبدالرزاق نے معمر سے اور معمر نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے
والد طاؤس سے روایت کی ہے کہ طاؤس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا ایک اونٹ
کو دو اونٹ کے بدلہ ایک معین مدت کیلئے لیا جا سکتا ہے؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا (نہیں) یہ تو
مکروہ ہے۔
اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ
آپ نے ایک اونٹ کو دو اونٹ کے بدلہ ایک معین مدت کیلئے لینے سے منع فرمایا ہے۔
اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ لشکر تیار کریں (اس تیاری میں) اونٹ ختم ہو گئے تو پھر آپ نے
انہیں حکم دیا کہ وہ اس کام کے لئے زکوٰۃ کی جوان اونٹنیاں استعمال کریں تو حضرت عبداللہ بن عمرو نے
ایک اونٹ کے بدلہ دو اونٹنیاں لینا شروع کیا یہاں تک کہ زکوٰۃ کی اونٹنیاں آ جائیں۔ پھر یہ حکم منسوخ
ہو گیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1602 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.675
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(۱) قوله: فاشتراه بعبدين أسودين: أي نقد لا نسيئة؛ لأنه لم يكن البيع ثمه نسيئة، بل البيع إنما تحقق بعد مجيء مولاه، ثم اعلم أن المحرم في الربا عندنا القدر والجنس، فوجود مجموعهما محرم في ربا الفضل، ووجود أحدهما كاف في ربا النسيئة، فيجوز عندنا بيع العبد بالعبدين نقدًا، ولا يجوز ذلك نسيئة، خلافا للشافعي بالله وغيره، وبقولنا: قال عطاء بن أبي رباح، وقال الترمذي : باب ما جاء في كراهية بيع الحيوان بالحيوان نسيئة، ثم روى حديث سمرة له، وقال: هذا حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم في بيع الحيوان بالحيوان نسيئة، وهو قول سفيان الثوري الله وأهل الكوفة، وبه يقول أحمد الله، وقال الترمذي: وسماع الحسن من سمرة له صحيح، هكذا قال علي بن المديني وغيره. وفي «الاستذكار»: قال الترمذي : قلت للبخاري في قولهم : لم يسمع الحسن من سمرة إلا حديث العقيقة قال: سمع منه أحاديث كثيرة، وجعل روايته عنه سماعا، وصححها، انتهى. وقال الترمذي: وفي الباب عن ابن عباس وجابر وابن عمر ، انتهى. وحديث ابن عباس عند البزار رواه الطحاوي ورجاله ثقات، وحديث ابن عمر عند الطحاوي والطبراني وحديث جابر عند الترمذي، وما رواه أبو داود عن عبد الله بن عمرو بن العاص وفيه: فكان يأخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة، وقال التوربشتي: حديث عبد الله بن عمر ، ضعيف وحديث سمرة له أثبت وأقوى أو كان ذلك قبل النهي عن الربا، فهو منسوخ. ثم فيه ضعف آخر من جهة المتن، وهو أن البيع إلى أجل مجهول لا يجوز، فيكون قد رواه في الابتداء، ثم نسخ على أن القول مقدم على الفعل، ويمكن فيه الاختصاص بحضرة الرسالة تنسيق النظام» «عمدة القاري»، «الجوهر النقي» ملتقط منها.
Note 2
(۲) قوله : وقد روى الترمذي إلخ : وما رواه في شرح السنة عن سعيد بن السيب وفيه أن رسول الله ﷺ نهى عن بيع اللحم بالحيوان، قال في المنهاج»: ويحرم بيع اللحم بالحيوان من جنسه، وكذا بغير جنسه من مأكول وغيره، في شرح السنة: اختلف أهل العلم في بيع اللحم بالحيوان، فذهب جماعة من الصحابة والتابعين إلى تحريمه، وإليه ذهب الشافعي، وحديث ابن المسيب وإن كان مرسلا، لكنه يتقوى بعمل الصحابة، واستحسن الشافعي مرسل ابن المسيب، وذهب جماعة إلى إباحته، واختارها أبو حنفية وأبو يوسف والمزني تلميذ الشافعي له؛ إذ لم يثبت، الحديث. وكان فيه قول متقدم ممن يكون بقوله اختلاف، ولأن الحيوان ليس بمال الربا بدليل أنه يجوز بيع حيوان بحيوانين، فبيع اللحم بالحيوان بيع مال الربا بما لا ربا فيه، فيجوز ذلك في القياس إلا أن يثبت الحديث، فنأخذ به وندع القياس. وفي «الوقاية»: جاز بيع اللحم بالحيوان، وقال محمد في الموطأ»: وبهذا نأخذ من باع لحما من لحم الغنم بشاة حية لا يدري اللحم أكثر أو ما في الشاة أكثر فالبيع فاسد مكروه، ولا ينبغي، وهذا مثل المزابنة والمحاقلة، وكذا بيع الزيتون بالزيت ودهن السمسم، وتفسيره على ما في شرح الوقاية إذا بيع الحيوان بلحم الحيوان من جنسه لا يجوز البيع إلا إذا كان اللحم أكثر من لحم ذلك الحيوان؛ ليكون الزائد في مقابلة السقط أقول: والأحسن عندي أن معنى الحديث أن يقول للقصاب : كم يخرج من هذه الشاة؟ فيقول القصاب عشرون رطلا، فيقول: خذ هذه الشاة بعشرين رطلا من اللحم إن خرج أكثر فلك أو أقل فعليك، فهذا نوع من القمار، ورجع الحديث إلى القياس. قاله في المسوى»، وقال في العالمگيرية»: وإن اشترى باللحم شاة حية في القياس لا يجوز، إلا أن يعلم أن اللحم أكثر من لحم الشاة، وهو قول محمد الله، وفي الاستحسان يجوز على كل حال، وهو قولهما. كذا في فتاوى قاضيخان»، انتهى. وقال في «المرقاة»: والمراد بالنهي في الحديث ما إذا كان أحدهما نسيئة؛ لأن المتأخر حينئذ لا يمكن ضبطه.
Note 3
(۳) قوله : قال ابن حبان إلخ : وقال الذهبي في الميزان»: هو أحد الأعلام على لين فيه، وحديثه روى له مسلم مقرونا بغيره، وروى له الأربعة. كذا في «عمدة القاري».
Note 4
(٤)قوله: يدا بيد إلخ : قال ابن الأثير في شرحه: يَدلُّ على صحة قول من منع النسيئة في الحيوان بالحيوان؛ لأنه لما قال له: «يدا بيد أقره على فعله. قاله في «الجوهر النقي».