Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3299a

Chapter on the Wedding Feast

In this book

Current reading

Marriage

Chapter on the Wedding Feast

Zujajat al-Masabih 3299aVolume 2

English

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If one of you is invited to a wedding feast, let him attend.” Agreed upon. In a narration by Muslim: “Let him respond, whether it is a wedding or similar.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٩٩ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ(رضي الله عنهما) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4377Noor 4378
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو اس کو چاہئے کہ دعوت میں حاضر ہو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ دعوت شادی کی ہو یا اسی طرح کی کوئی اور دعوت ہو اس کو قبول کرنا چاہئے اور داعی کے گھر جانا چاہئے (خواہ کھانا کھائے یا نہ کھائے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5173 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1429a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Let him attend

(1) The statement: “Let him attend”: In Al-Hindiyyah, from At-Tamartashi: Scholars differed on responding to an invitation. Some said it is obligatory, not permissible to neglect. The majority said it is a Sunnah, and it is best to respond if it is a wedding feast; otherwise, he has a choice. Responding is better, as it brings joy to a believer’s heart. If he responds, he fulfills his duty whether he eats or not, but eating is better if he is not fasting. In Al-Binayah: Responding to an invitation is a Sunnah, whether a wedding or otherwise. In Al-Ikhtiyar: The wedding feast is an established Sunnah; if he does not respond, he sins, as it is said: Whoever does not respond to the invitation has disobeyed Allah and His Messenger. If he is fasting, he responds and supplicates; if not fasting, he eats and supplicates. If he neither eats nor responds, he sins and is rude, as it mocks the host. He said: If invited to a hoof, I would respond. This implies it is a strongly emphasized Sunnah, unlike others. The commentators of Al-Hidayah stated it is close to obligatory. In Rahmat al-Ummah: Responding is recommended according to the soundest view of Abu Hanifah, obligatory according to the prevalent view of Malik, the more apparent of Ash-Shafi‘i’s two opinions, and one of Ahmad’s two narrations.

Note 1

ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیریہ میں تمرتاشی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ دعوت کے قبول کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ ف: واضح ہو کہ دعوت کا قبول کرنا عرف عام میں سنت ہے حالانکہ دعوت کا قبول کرنا واجب بھی ہے، سنت بھی ہے مستحب بھی ہے اور بسا اوقات ممنوع بھی ہے؛ جس کی تفصیل یہ ہے: فتاویٰ عالمگیریہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ دعوت قبول کرنے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے پاس واجب ہے جس کے ترک کرنے کی کوئی صورت نہیں، عامہ علماء کے پاس سنت ہے اور اگر ولیمہ کی دعوت ہو تو افضل یہ ہے کہ قبول کرے ورنہ اختیار ہے لیکن دعوت کا قبول کرنا افضل ہے اس لئے کہ اس سے ایک مومن کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور جب دعوت قبول کرلی تو داعی کے گھر جانا چاہئے خواہ کھائے یا نہ کھائے لیکن افضل یہ ہے کہ روزہ دار نہ ہو تو کھالے۔ اور بنایہ میں لکھا ہے کہ دعوت کا قبول کرنا سنت ہے خواہ ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت اور اختیار میں لکھا ہے کہ ولیمہ کی دعوت کا قبول کرنا قدیم سنت ہے اگر قبول نہ کرے تو گنہگار ہوگا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جس نے دعوت قبول نہیں کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اگر روزہ دار ہو تو دعوت قبول کرے، جائے اور دعا کر کے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا کھائے اور دعا کرے اور اگر کھانا نہ کھائے اور دعوت بھی قبول نہ کرے تو گنہگار ہوگا اور جفا کار سمجھا جائے گا اس لئے کہ اس میں داعی کی توہین ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اگر مجھے کھر کھانے کے لئے بھی بلایا جائے تو میں ایسی دعوت کو قبول کروں گا اور رحمۃ الامہ میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ کے پاس صحیح ترین قول یہ ہے کہ دعوت کا قبول کرنا مستحب ہے۔ اھ حاشیہ مشکوٰۃ میں لمعات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ چند ایسے اسباب ہیں جنکی وجہ سے دعوت کا قبول کرنا ساقط ہوجاتا ہے جیسے وہاں شبہ کا کھانا ہو یا وہاں صرف اغنیاء کی دعوت ہو یا وہاں ایسے لوگ ہوں جن کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہ ہو داعی نے اس کو اس کی وجاہت دنیوی کی وجہ سے بلایا ہے یا اس لئے دعوت دی ہو کہ اس سے باطل میں اعانت لی جائے یا وہاں غیر شرعی امور ہوں جیسے ریشم کا فرش ہو یا گانے بجانے کی محفل ہو۔12