العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٢٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَقُولُ: أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: }تُرْجِى مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُئْوِى إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ{(الأحزاب: (٥١) قُلْتُ: مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَحَدِيثُ جَابِرٍ: «اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ ذُكِرَ فِي قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4788 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5113 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1464a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “You may postpone whom you will, etc.”: Interpreters differed on its meaning. The most well-known view is that it pertains to division among them. Equal division was obligatory for him, but when this verse was revealed, it was lifted, and the choice was given to him. Abu Razin and Ibn Zayd said: This verse was revealed when some Mothers of the Believers became jealous and sought more maintenance. The Prophet (ﷺ) forsook them for a month until the verse of choice was revealed. Allah commanded him to let them choose between this world and the Hereafter, to release those who chose this world, and to keep those who chose Allah and His Messenger as Mothers of the Believers, never to be married by others. He could receive whom he willed, postpone whom he willed, and they would be content whether he divided among them or not, or favored some in maintenance or division. This was his exclusive privilege, and they accepted it and chose him on this condition, as in Ma‘alim at-Tanzil.
Note 1
ف: واضح ہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں سورۂ احزاب کی آیت ”تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ “ کا ذکر ہے۔ اس بارے میں ابو رزین اور ابن زید نے کہا ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ امہات المومنین میں سے بعض نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو غیرت دلائی اور بعض نے حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سے زیادہ نفقہ طلب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام امہات المومنین سے ایک ماہ تک علیحدگی اختیار فرمائی یہاں تک کہ آیت مذکورہ جس کو آیت تخییر کہتے ہیں نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس بات کا اختیار دیا کہ دنیا کو اختیار کریں یا آخرت کو۔ اور ان میں سے جو دنیا کو اختیار کریں ان کو چھوڑ دیا جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کریں اور وہ امہات المومنین برقرار رہیں گے اور ان سے پھر کوئی نکاح نہیں کر سکے گا اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم امہات المومنین میں سے جن کو چاہیں جتنے دن چاہیں اپنے پاس رکھ سکیں گے اور جن کو جتنے دن چاہیں الگ رکھ سکیں گے۔ اس پر امہات المومنین نے رضامندی ظاہر فرمائی خواہ آپ باری مقرر فرمائیں یا نہیں یا آپ باری میں بعض کو ترجیح دیں اس طرح آپ نفقہ میں بھی بعض کو زیادہ عطا فرمائیں بہرحال اس میں بھی حضور کو بالکلیہ اختیار دیدیا گیا اور یہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کے خصوصیات میں شامل ہے اور ان ساری باتوں کو امہات المومنین نے پسند فرما کر آپ کو اختیار فرمایا۔ ”معالم التنزیل“ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے جیسا کہ حدیث نمبر(4410) کے فائدہ میں بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بالکلیہ اختیار ملنے کے باوجود آپ کا کمال انصاف یہ تھا کہ آپ نے تمام امہات المومنین میں باری مقرر فرمائی اور نفقہ میں بھی مساوات قائم فرمائی۔12