اردو
عتبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں ایک سیاہ فام باندی کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر
ایک مومن غلام یا باندی کا آزاد کرنا واجب ہے کیا اس باندی کو آزاد کرنا کافی ہوگا؟ تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا تیرا رب کون ہے؟ اس نے جواب دیا اللہ میرا رب
ہے! آپ نے پھر دریافت فرمایا تیرا دین کیا؟ اس نے جواب دیا اسلام (میرا دین ہے!) آپ
نے پھر فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں! آپ نے پھر دریافت
فرمایا تو کیا تو پانچوں نمازیں ادا کرتی ہے اور میں نے جو اللہ کے پاس سے لایا ہے اس کا اقرار کرتی
ہے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں (اقرار کرتی ہوں) (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
کی پیٹھ تھپکی اور (جس خاتون نے لایا تھا اس سے) فرمایا تم اس کو آزاد کردو!۔
ایک اور روایت میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے
روایت ہے کہ ایک انصاری اپنی ایک باندی جو سیاہ فام تھی اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھ پر ایک مومن غلام یا
باندی کا آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کردوں تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
دریافت فرمایا کیا تو گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے جواب دیا جی ہاں! (میں
اس کی گواہی دیتی ہوں) پھر ارشاد فرمایا: کیا تو گواہی دیتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ
کے رسول ہیں؟ تو اس نے جواب دیا جی ہاں! آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ تو مرنے کے بعد اٹھنے
پر ایمان رکھتی ہے؟ تو اس نے جواب دیا ہاں! (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس
کو آزاد کر دو۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
یہ مرسل حدیث ہے اور موصول حدیث جو اسی کے ہم معنی ہے گزر چکی ہے۔