English
Al-Bara’ ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) made a truce with the polytheists on the day of Hudaybiyyah on three conditions: that whoever came to him from the polytheists would be returned to them, whoever came to them from the Muslims would not be returned, and that he would enter it the following year and stay for three days. When he entered it and the term expired, he left. The daughter of Hamzah followed him, calling out: “O uncle, O uncle!” Ali took her and held her hand. Ali, Zayd, and Ja‘far disputed over her. Ali said: “I took her, and she is my cousin’s daughter.” Ja‘far said: “She is my cousin’s daughter, and her maternal aunt is my wife.” Zayd said: “She is my brother’s daughter.” The Prophet (ﷺ) ruled in favor of her maternal aunt and said: “The maternal aunt is like the mother.” He said to Ali: “You are from me, and I am from you.” He said to Ja‘far: “You resemble my appearance and my character.” He said to Zayd: “You are our brother and our freedman.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٤٣٨ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ (رضي الله عنه)قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ ﷺ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ خَرَجَ، فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي : يَا عَمِّ يَا عَمّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدُ وَجَعْفَرُ، قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَنِّي، وَقَالَ جَعْفَرُ: ابْنَةُ عَمِّيْ وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدُ: ابْنَةُ أَخِي.
فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ ﷺ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ وَقَالَ لِعَلِي: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ: «أَنْتَ أَخُوْنَا وَمَوْلَانَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4601
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن (مشرکوں سے) تین شرطوں پر صلح کی (1) جو مشرک (مسلمان
ہو کر مدینہ منورہ) آ جائے اس کو مشرکین کے پاس واپس کر دیا جائے گا (2) اور جو مسلمان مشرکوں
کے پاس چلا جائے تو مشرکین اس کو واپس نہیں کریں گے اور (3) یہ کہ آئندہ سال (عمرہ کی قضاء
کرنے کے لئے مکہ معظمہ میں) داخل ہو سکتے ہیں اور صرف تین دن ٹھہر سکتے ہیں۔ (اس صلح کے
مطابق) جب آپ (مکہ معظمہ) تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو (مدینہ منورہ کی طرف) واپس
ہونے لگے تو حضرت حمزہؓ کی صاحبزادی آپ کے پیچھے آنے لگیں اور میرے چچا میرے چچا
پکارنے لگیں (یعنی مجھے بھی لیتے چلو) تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (اپنی سرپرستی میں) لینے کے
ارادہ سے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ تو حضرت علی، حضرت زید، اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہم تینوں (ان کی
پرورش کے بارے) میں جھگڑنے لگے حضرت علیؓ نے فرمایا میں نے ان کو (پہلے) لے لیا ہے
اور وہ میری چچازاد بہن ہیں (اس لئے میں ان کی پرورش کا زیادہ حق دار ہوں) اور حضرت جعفرؓ نے
فرمایا: وہ (بھی) میری چچازاد بہن ہیں اور ان کی خالہ میری بیوی تھیں اور حضرت زیدؓ نے فرمایا وہ
تو میری بھتیجی ہیں (یہ سب سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ان کی کفیل ان کی خالہ
رہیں گی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ خالہ ماں کی طرح ہے اور (ان سب کے دلجوئی کے لئے) حضرت علیؓ
سے فرمایا تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں اور حضرت جعفرؓ سے فرمایا تم صورت اور سیرت میں میرے
مشابہ ہو اور حضرت زیدؓ سے فرمایا تم ہمارے بھائی اور ہمارے محب ہو۔ (اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2699 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4251 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) The statement: “The maternal aunt is like the mother” indicates the establishment of the right of custody for maternal aunts. Thus, it is stated in Al-Mabsut.