Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْعِتْقِ

Hadith 3467

بَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُوْرِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْعِتْقِ

بَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُوْرِ

Zujajat al-Masabih 3467Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٤٦٧ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: ﴿أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَا يُؤَاخِذُكُمُ الله بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ : لَا وَاللهِ وَبَلَى وَاللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ» لَفْظُ (المائدة: (۸۹) الْمَصَابِيحِ، وَقَالَ رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَائِشَةَ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَيْهَقِيِّ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرِ اللَّيْنِيُّ عِنْدَ عَائِشَةَ لله زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ عَنْ قَوْلِ الله عَزَّ وَجَلَّ: ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾(المائدة: (۸۹) قَالَتْ: حَلْفُ الرَّجُلِ عَلَى عِلْمِهِ، ثُمَّ لَا يَجِدُهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَيْسَ فِيْهِ كَفَّارَةٌ. وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ الْمُنْذِرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لها أَنَّهُ قَالَ فِي تَفْسِيرِ الْآيَةِ: إِنَّ اللَّغْوَ هُوَ الْخَلْفُ عَلَى يَمِيْنِ كَاذِبَةٍ ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ صَادِقٌ، وَالْحَالُ أَنَّ ذَلِكَ الْأَمْرَ فِي الْوَاقِعِ خِلَافُ مَا ظَنَّهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4613 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

This verse was revealed, etc.

(1) The statement: “This verse was revealed, etc.”: Know that oaths are of three types: unintentional, deliberate false, and binding. The unintentional is when one swears about a past act, believing it to be true, but it is actually contrary. This is the Hanafi view, narrated from Ibn Abbas and Ata ibn Abi Rabah regarding the interpretation of unintentional, and it is mentioned in the texts, “Al-Hidayah,” and its commentaries. It was held by Rabiah, Malik, Layth, Hasan, Mujahid, Nakha’i, Zuhri, Sulayman ibn Yasar, Qatadah, Sudi, and Mukhawwal. Two narrations are from Ahmad. In “Al-Fath,” it is stated that Ibn al-Mundhir and others narrated it from Ibn Umar, Ibn Abbas, and others among the companions. According to Shafi’i, it is what has no binding intent, slipping from the tongue or spoken ignorantly, such as the Arabs’ saying: “No, by Allah,” and “Yes, by Allah,” for mere emphasis, narrated from Aishah regarding the interpretation of unintentional, and held by Sha’bi, Tawus, and Ikrimah. Zayla’i narrated that it was narrated from Abu Hanifah like Shafi’i’s view. In “Al-Ikhtiyar,” it is stated that Muhammad narrated it from Abu Hanifah. In “Al-Bada’i,” it is narrated first from our companions, then it is stated: What Muhammad mentioned following his narration from Abu Hanifah that the unintentional is what people say: “No, by Allah,” and “Yes, by Allah,” is interpreted according to us as referring to the past or present, and according to us, that is unintentional. The essence of the disagreement between us and Shafi’i is regarding an oath not intended by the swearer for the future. According to us, it is not unintentional, and expiation is required. According to him, it is unintentional, and there is no expiation. His statement: “It is interpreted according to us, etc.” is a report of what Muhammad mentioned, based on that narration from Abu Hanifah, intending to clarify the difference between it and Shafi’i’s view, as the future is unintentional according to him, not us. Our evidence is Allah’s statement: Allah does not hold you accountable for the unintentional in your oaths, but He holds you accountable for the oaths you have bound yourselves with (Al-Ma’idah: 89), contrasting the unintentional oath with the binding oath, distinguishing between them by accountability and its negation. Thus, the unintentional oath must be other than the binding oath to realize the contrast. An oath about the future is a binding oath, whether intended or not, because unintentional in language is a name for something without reality, as Allah, the Exalted, said: They hear therein no idle talk (Maryam: 62), meaning falsehood. This applies to what we said, which is swearing by what has no reality, but on the swearer’s belief that it is as he swore, while the reality is contrary. Likewise, what slips from the tongue without intention, but about the past or present, has no reality, so it is unintentional and has no ruling, thus it is not a binding oath, as it has a ruling. Do you not see that accountability is established for it, and expiation is required by the text? This indicates that the unintentional is what we said. Thus, it is narrated from Ibn Abbas regarding the interpretation of the unintentional oath: It is when a man swears a false oath, believing it to be true. It is clarified that Aishah’s statement and the statement of the Messenger of Allah (ﷺ): The unintentional oath is what people say: “No, by Allah,” and “Yes, by Allah,” refers to the past, not the future. The evidence is that she interpreted it as the past, narrated from Matar from a man who said: I and Ibn Umar entered upon Aishah, and I asked her about the unintentional oath. She said: A man’s statement: “We did such and such, by Allah,” and “We made such and such, by Allah.” Thus, that narration is interpreted according to this to reconcile the two narrations, as the ambiguous is interpreted by the clear. The conclusion is that the unintentional according to us is of two types: The first is what is mentioned in the texts, and the second is what is in this narration, so this narration clarifies the type omitted by the authors of the texts. In “Al-Fath,” it is explicitly stated that there is no accountability for the unintentional in both interpretations. [Taken from “Radd al-Muhtar” and “Al-Bada’i”]

Note 1

۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ (تکیہ کلام کے طور پر) جاری ہے تو یہ ہمارے پاس ماضی یا حال پر محمول ہے اور یہ قسم لغو ہے۔ ثمرہ اختلاف ہمارے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان اس قسم کے بارے میں ہے جس میں قسم کھانے والا مستقبل کا ارادہ نہیں کیا تو ایسی قسم ہمارے پاس لغو نہیں ہے البتہ اس میں کفارہ دینا ہے۔ اور شافعیہ کے پاس لغو ہے جس میں کفارہ بھی نہیں ہے۔ تو صاحب بدائعؒ کا قول ”فذلك محمول عندنا الخ“، ”وما ذكر محمد، الخ“ کی خبر ہے۔ اور یہ اس روایت پر مبنی ہے جو امام اعظم رحمۃ اللہ سے منقول ہے اور اس سے ان کی مراد اس قول میں اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں فرق کو ظاہر کرنا ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ اگر یہ قسم مستقبل کے لئے ہو تو بھی امام شافعی کے پاس لغو ہے اور ہمارے پاس مستقبل کی لغو تو لغو نہیں۔ اور ہماری دلیل اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ”لا يؤاخذ كم الله باللغو فى ايمانكم ولكن يؤاخذ كم بما عقدتم الايمان (5المائدۃ89)(اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے جو لغو(بے معنی) ہوں ان پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا البتہ ان قسموں پر مؤاخذہ کرے گا جس کے لئے تم نے پکا ارادہ کیا ہو۔) اس میں لغو کو یمین منعقدہ کے مقابل میں ذکر کیا گیا ہے اور دونوں کے درمیان مؤاخذہ اور عدم مؤاخذہ سے فرق کیا گیا ہے۔ اور اس مقابلہ کے اثبات کے لئے یمین لغو کا یمین کے مغائر ہونا ضروری ہے۔ اور مستقبل میں قسم یمین منعقدہ ہوگی خواہ بالارادہ ہو یا بلا ارادہ ہو کیونکہ لغت میں لغو ایسی چیز کو کہتے ہیں جو باطل اور بے حقیقت ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”لا يسمعون فيها لغوا“ (56الواقعہ25)(اس(جنت) میں وہ لغو کلام نہیں سنیں گے) اس میں لغو، باطل کے معنی میں ہے اور یہی ہمارا قول ہے کہ یمین لغو وہ قسم ہے جس کی حقیقت نہیں ہوتی بلکہ قسم کھانے والے کا ایک گمان ہوتا ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہوتی ہے۔ اسی طرح سے جو چیز زمانہ ماضی یا حال سے متعلق تکیہ کلام کے طور پر بلا ارادہ زبان پر جاری ہو جاتی ہے تو یہ جملہ ان چیزوں کے ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی تو یہ لغو ہے۔ اس کے لئے کوئی حکم نہیں ہے اور یہ یمین منعقد نہیں ہوتی کیونکہ یمین منعقدہ کے لئے حکم ہوتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ یمین منعقدہ میں مؤاخذہ اور کفارہ نص سے ثابت ہے تو اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یمین لغو وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یمین لغو کی یہ تفسیر مروی ہے کہ یمین لغو یہ ہے کہ آدمی کسی جھوٹی بات پر یہ سمجھتے ہوئے قسم کھائے کہ وہ سچا ہے اور اس سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مفہوم کی وضاحت معلوم ہوتی ہے کہ یمین لغو وہ قسم ہے جو لوگوں کی گفتگو ”لا والله، بلى والله“ زمانہ ماضی کے بارے میں جاری ہوتی ہے۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ نہ کہ مستقبل کے بارے میں۔ اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے کہ آپ نے بھی زمانہ ماضی سے اس کی تفسیر کی ہے۔ چنانچہ حضرت مطر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور میں نے ان سے یمین لغو کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ کسی آدمی کا فعلنا والله كذا (خدا کی قسم ہم نے ایسا عمل کیا) کہنا یمین لغو ہے۔ اور یہ روایت اس (ماضی) پر محمول کی جائے گی تاکہ دونوں روایتوں میں مطابقت ہو جائے چونکہ مجمل مفسر پر محمول ہوتا ہے۔ بطور خلاصہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ لغو کی ہمارے پاس دو قسمیں ہیں۔ 1۔ ایک وہ قسم ہے جس کا ذکر متون میں ہے۔ 2۔ دوسری قسم وہ ہے جو اس روایت میں مذکور ہے۔ (یعنی ماضی یا حال میں لا والله، بلى والله کہنا) تو یہ روایت اس قسم کا بیان ہو جائے گی جس کے بارے میں اصحاب متون نے سکوت اختیار کیا۔ اور فتح القدیر میں یمین لغو کی دونوں وضاحتوں پر مؤاخذہ نہ ہونے کی صراحت موجود ہے۔ (ماخوذ از ردالمحتار اور بدائع) یمین غموس اور منعقدہ کی وضاحت اس کے بعد آنے والی حدیث میں موجود ہے۔ 1قوله يمين صابرة الخ (زبردستی جھوٹی قسم کھالینا) یمین صابرہ، یمین غموس ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی گزرے ہوئے کام پر یہ جانتے ہوئے کہ یہ خلاف واقعہ ہے عمداً جھوٹی قسم کھائے۔ یمین منعقدہ:= آئندہ زمانہ میں کسی کام پر خواہ اس کا ارادہ رکھا ہو یا ارادہ نہ رکھا ہو قسم کھانا منعقدہ ہے۔ اور ہمارے پاس یمین منعقدہ میں اگر قسم توڑ دے تو اس پر کفارہ واجب ہے اور گنہگار ہوگا ورنہ (قسم نہ توڑے تو کفارہ واجب نہیں ہے اور یمین لغو اور غموس میں اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ یمین غموس میں کفارہ نہیں ہے مگر بہت بڑا گنہگار ہوگا۔ البتہ توبہ اور استغفار کرے اور یمین لغو میں بھی کفارہ نہیں ہے۔ اور اس میں معاف کئے جانے کی امید ہے اور حضرت امام شافعی کے پاس منعقدہ میں جس طرح کفارہ واجب ہوتا ہے، یمین غموس میں بھی واجب ہوتا ہے اور یہ حدیث شریف ہماری تائید کرتی ہے دلائل کے ساتھ مزید تحقیق تفسیرات احمدیہ اور فقہ کی کتابوں سے معلوم کی جاسکتی ہے (ماخوذ از ہدایہ، ردالمحتار و تفسیرات احمدیہ) 1 قوله انهما قرآتا اُخ (ان دونوں کی قرأت) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تین چیزوں میں سے کسی چیز پر قدرت نہ ہو تو مسلسل تین دن کے روزے رکھے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چونکہ نص مطلق ہے اس لئے اس کو اختیار ہے خواہ الگ الگ رکھے یا مسلسل رکھے۔ اور ہماری دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت ہے ”فصيام ثلاثة ايام متتابعات“۔ اور یہ قرأۃ مشہور ہے اور کتاب اللہ کے مطلق پر خبر مشہور سے زیادتی جائز ہے۔ اور یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ (ماخوذ از ہدایہ، بنایہ) 2 قوله: من حلف على يمين۔ اخ (اگر کسی بات پر کوئی آدمی قسم کھائے) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنی قسم کے ساتھ بلا فصل ان شاء اللہ کہے گا تو اس کی قسم باطل ہو جائے گی۔ اس سے وہ قسم خارج ہے جس میں آدمی اپنی قسم کے بعد ان شاء اللہ فوری نہ کہا ہو اور یہ قسم باطل نہیں ہوتی کیونکہ استثناء کا عمل بلا فصل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے باالفصل ہو تو اس کا عمل نہیں ہوتا۔ (ماخوذ از شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ) اگر تم یہ کہو کہ حدیث مطلق ہے اس میں وصل و فصل کا فرق نہیں کیا جائے گا تو اس کے جواب میں، میں کہوں گا کہ منصوص علیہ اور غیر منصوص علیہ دلائل سے معاملات کا جو لزوم ثابت ہوتا ہے وہ سب اتصال کو واجب قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ ان شاء اللہ دیر سے کہنے کو جائز قرار دیا جائے تو سارے معاملات (جیسے بیع، نکاح وغیرہ وغیرہ) کوئی چیز ذمہ لازم نہیں رہے گی اور اس میں جو فساد ہے کسی پر پوشیدہ نہیں۔ علامہ عینیؒ نے ایسا ہی کہا ہے۔ اور صدر الشریعہ نے استثناء باالاتصال کے عدم جواز پر ایک حدیث کا بھی ذکر کیا ہے۔ فليكفر عن يمينه (اپنی قسم کا کفارہ دے) اس حدیث شریف میں کفارہ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ اور اگر بیان تغییر یعنی استثناء منفصل جائز ہوتا تو کسی قسم میں کفارہ بالکل لازم ہی نہ ہوتا۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہو جائے گا تو استثناء منفصل (ان شاءاللہ دیر سے کہنا) جائز ہو جائے گا تو قسم ہی باطل ہو جائے گی۔ (تعلیق الممجد)۔ نیز امام بیہقی اور امام دارقطنی کی حدیث شریف جو کتاب میں مذکور ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور عمدۃ القاری میں ہے کہ استثناء سے یہاں مراد لفظ ان شاءاللہ ہے نحوی اصطلاحی استثناء مراد نہیں ہے جیسے ”والله لأفعلن كذا ان شاء الله تعالى (اللہ کی قسم میں ضرور ایسا کروں گا ان شاءاللہ) یا والله لا أفعلن كذا ان شاء الله“ (اللہ کی قسم میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا ان شاءاللہ) اور اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابراہیم، حضرت حسن بصری، حضرت ثوری امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب، امام اوزاعی، حضرت لیث اور جمہور علماء نے فرمایا کہ قسم کے ساتھ استثناء ہو تو اس کا متصل (بلا وقفہ) ہونا شرط ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرمائے کہ کلام اول کے ساتھ استثناء ہو تو اس کا متصل ہونا شرط ہے۔ اور اس کا اتصال بالترتیب ہو۔ اور اگر دونوں کے درمیان سکوت ہو تو استثناء ختم ہو جائے گا۔ سوائے اس کے کہ کسی چیز کو یاد کرنے کے لئے یا سانس لینے یا زبان کے رک جانے یا آواز کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے ہو (ایسی صورت میں استثناء متصل رہے گا) طلاق اور عتاق میں استثناء کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابن ابی لیلیٰ، امام اوزاعیؒ۔ امام لیثؒ اور امام مالک رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں استثناء جائز نہیں ہے۔ اسی طرح کی ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس اور ابن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے آئی ہے۔ طاؤس، نخعی، حسن اور ایک روایت میں عطاء اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، امام شافعی اور ان کے اصحاب، اور امام اسحاق رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اس میں) استثناء جائز ہے۔ (ختم شد) اور البحر الرائق میں ہے کہ صاحب کنز کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی اپنی قسم کے ساتھ اگر ان شاءاللہ متصل کہے گا تو وہ قسم پوری کرے کیونکہ یہ قسم منعقدہ ہے۔ البتہ اس پر اس طرح کی قسم توڑنے کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے کوئی آگاہی نہیں ہے۔ اور یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کے پاس تعلیق بالمشیت (قسم کے ساتھ ان شاءاللہ کہنا) قسم کو باطل کر دیتا ہے۔ اسی لئے کتاب ”تبیین“ میں ہے کہ ان کے قول ”بَرّ“ سے قسم کا منعقد نہ ہونا مراد ہے کیونکہ عدم حنث اور بر ایک ہی ہے اسی لئے عدم حنث پر ”بَرّ“ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ فقہاء کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادات و معاملات کی ہر وہ چیز جس کا تعلق قول سے ہے جب وہ ان شاءاللہ کے ساتھ متصل کہی جائے تو باطل ہو جاتی ہے برخلاف قلب سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے جیسے نیت وغیرہ ہے (ان شاءاللہ سے وہ باطل نہیں ہوتے)۔ 1قولہ وَلْيُوْفُوا نُذُوْرَهُمْ - (اور وہ اپنی منتوں کو پورا کریں) یہ امر وجوب کے لئے ہے۔ اگرچہ یہ آیت کریمہ ایک مخصوص نذر کے بارے میں آئی مگر عموماً اس سے مطلق نذر کو پورا کرنا واجب ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں نذر پورا کرنے کا حکم ہے۔ اور ہمارے پاس نص اپنے مورد اور سبب کے ساتھ خاص نہیں ہوتی پس اس سے ہر نذر کو پورا کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اور یہاں لفظ وجوب کو فرض کے مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ عام خص عنہ البعض ہے (یعنی اس عام کے بعض افراد کو اس حکم سے خاص کر دیا گیا ہے) جیسے گناہ کی نذر ماننا یا اطاعت غیر مقصودہ کی نذر ماننا (یہ اس سے خارج ہو گئے) پس یہ عام ظنی ہوا اور اسی لئے اس پر لفظ وجوب کا جس میں احتمال ہوتا ہے اطلاق کیا گیا۔ 2قولہ لا تنذروا ..الخ (نذر مت مانو کیونکہ نذر تقدیر کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں دیتی۔ اس میں جو نذر سے منع کیا جا رہا ہے وہ نذر کے پورا کرنے کی تاکید کے لئے ہے کہ نذر کرنے کے بعد اس کو پورا کرنے میں سستی نہ کی جائے۔ اگر اس سے مراد نذر سے روکنا ہوتا تو نذر ماننا معصیت ہو جاتا اور اس کا حکم باطل ہو جاتا اور اس کو پورا کرنا ساقط ہو جاتا اس حدیث شریف کے ذریعہ آپ نے یہ بتایا ہے کہ نذر ان کو نہ کوئی نفع دے سکتی ہے اور نہ کوئی ضرر کو ان سے دور کر سکتی ہے۔ اور نہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کی ہوئی چیز کو رد کر سکتی ہے حضور پاک کا۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ فرمان ”نذر مت مانو“ اس بناء پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جب کسی چیز کو مقدر نہیں کیا ہے تو تم اس کو نذر کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کا جو تم پر فیصلہ ہو چکا ہے ہٹا سکتے ہو پھر بھی جب تم نذر مان لو تو اس کو پورا کرو کیونکہ تم جس چیز کی نذر مانے ہو وہ تمہارے لئے ضروری ہے۔ حدیث شریف میں نذر سے جو منع کیا گیا ہے دراصل اس میں اخلاص کے ساتھ نذر ماننے اور اس کو پورا کرنے کی ترغیب ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے کہ ”تقدیر کے مقابلہ میں نذر کچھ کام نہیں دیتی“ نذر سے منع کرنے کی جو علت بیان فرمائی ہے اس سے اس خیال فاسد پر کہ نذر تقدیر کے مقابلہ میں کام دیتی ہے تنبیہ فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ منع کرنے کا تعلق مطلق نذر سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ان کے اس خیال فاسد سے ہے کہ ”نذر تقدیر کو روک سکتی ہے“۔ (مرقات، لمعات) اسی لئے دارالمختار میں ہے: تم اس بات کو جانو کہ نذر شریعت میں تقرب کی چیز ہے۔ اس لئے کہ اس سے لازم آنے والی عبادتیں نماز، روزہ، حج اور عتق وغیرہ سب تقرب کی چیزیں ہیں۔ اور اس کا مشروع ہونا اس لئے ہے کہ اس کو پورا کرنے کے احکام دئے گئے ہیں۔ عمدۃ القاری میں ہے کہ اطاعت کی نذر کو پورا کرنے پر اجماع ہو گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اوفوا بالعقود“ معاملات کو تم پورا کرو ”يوفون بالنذر“ وہ نذر کو پورا کرتے ہیں 1قوله لانذر في معصية الخ : (گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی) جانو اس بات کو کہ نذر اگر کسی طاعت کے کام میں ہو تو وہ بالاتفاق لازم ہے۔ اور اگر معصیت میں ہو تو اس کو پورا کرنا جائز نہیں۔ البتہ نذر معصیت کے منعقد ہونے کے بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نذر معصیت بالکل منعقد نہیں ہوتی۔ اور نذر معصیت لغو ہے جس میں کفارہ نہیں ہے۔ اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نذر معصیت بطور قسم منعقد ہو جاتی ہے مگر اس کو پورا کرنا نہیں ہے بلکہ اس میں کفارہ دینا ہے۔ اور امام طحاویؒ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ آدمی جب معاصی کی نذر مانے مثلاً یہ کہے ”لله علي ان اقتل فلانا“ ”اللہ تعالیٰ کے لئے میں فلاں کو قتل کر دوں گا“ تو اب یہ قسم ہے اور اس کو توڑ کر کفارہ دینا ضروری ہے۔ اس کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جو اس باب میں مذکور ہیں۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ (ملخص از سندھی، کوکب دری، ردالمحتار، مرقات)۔ اور اگر اس مذہب کی مزید تفصیل چاہئے تو العرف الشذی میں دیکھ لیں۔ صاحب مبسوط نے نقل کیا ہے کہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: نذر معصیت پر کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ معاصی کی نذر ماننے سے نہ ان کو کرنا ضروری ہوتا ہے اور نہ کفارہ دینا ہے کیونکہ کفارہ قسم کی وجہ سے واجب ہونے والی نیکی کا خلیفہ ہے یا وہ پھر اس چیز کا خلیفہ ہے جس کو نذر کی وجہ سے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ چیز تو نذر معصیت میں پائی ہی نہیں جاتی۔ حکایت :۔ بیان کیا جاتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام شعبیؒ کے پاس گئے اور یہ مسئلہ (یعنی گناہ کی نذر ماننے سے متعلق) ان سے دریافت کیا۔ امام شعبیؒ نے فرمایا کہ اس پر کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ جس چیز کی نذر کی گئی وہ معصیت ہے۔ تو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کیا خطا معصیت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں کفارہ کا حکم فرمایا ہے؟ امام شعبی حیران ہوگئے۔ اور فرمایا ”أنت من الأرأيين“ آپ تو اصحاب رائے یعنی مجتہدین میں سے ہیں۔ اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے اگر کوئی معصیت کی نذر مانے تو وہ درست نہیں ہے البتہ ایسی نذر ماننے سے کفارہ لازم آتا ہے۔ اور نیل الاوطار میں لکھا ہے کہ نذر معصیت میں کفارہ کے واجب ہونے نہ ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ جمہور کے پاس کفارہ واجب نہیں ہے۔ اور امام احمدؒ، امام ثوریؒ، امام اسحٰقؒ اور بعض شافعیہ اور حنفیہ کے پاس کفارہ ہے۔ اور امام ترمذیؒ نے اس بارے میں صحابہؓ کا اختلاف نقل فرمایا ہے۔ اور نذر معصیت کے حرام ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ اور ان کا اختلاف تو صرف وجوب کفارہ کے بارے میں ہے۔ اور جو وجوب کفارہ کے قائل ہیں وہ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ب کی مذکورہ حدیث سے اور اس معنی میں دوسری آئی ہوئی حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں۔(انتهى) اور ”لا نذر في معصية“ کے معنی یہ نہیں ہے کہ نذر بالکل منعقد نہیں ہوتی کیونکہ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے ”اس کا کفارہ یمین کا کفارہ ہے“ پھر دونوں میں اس کی کوئی مناسبت نہیں رہتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے۔ بعض صحیح روایتوں میں وضاحت کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ معصیت کی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے۔(فتح الودود) 1؎۔قولہ”لا وفاء لنذر في معصية“(معصیت کی کسی نذر کو پورا کرنا نہیں ہے) کیونکہ نذر کے صحیح ہونے اور اس کے پورا کرنے کے وجوب کے لئے چند شرطیں ہیں منجملہ ان کے یہ ہیں