عتبہ بن فرقد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عمر بن خطابؓ
سے کہا کہ میں نے سواد کی زمین میں سے کچھ زمین خریدی ہے۔16؎ تو عمرؓ نے فرمایا تم اس میں اس
زمین کے (پہلے) مالک کی طرح ہو۔
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(١)قوله: إني اشتريت أرضًا إلخ: لذلك قال في (الهداية): ويجوز أن يشتري المسلم أرض الخراج من الذمي ويؤخذ منه الخراج. وقد صحَّ أن الصحابة : اشتروا أراضي الخراج، وكانوا يؤدون خراجها، فَدَلَّ على جواز الشراء وأخذ الخراج وأدائه للمسلم من غير كراهة انتهى.
Note 1
کتاب المعرفۃ میں ہے کہ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بات تو وہی ہے جو
حضرت امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے (کہ خراجی زمین خریدی جاسکتی ہے) کیونکہ حضرت
عبداللہ بن مسعود، حضرت خباب بن الارت حضرت حسین بن علی اور حضرت شریح کی زمینات خراجی تھیں۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
(١)قوله: إني اشتريت أرضًا إلخ: لذلك قال في (الهداية): ويجوز أن يشتري المسلم أرض الخراج من الذمي ويؤخذ منه الخراج. وقد صحَّ أن الصحابة : اشتروا أراضي الخراج، وكانوا يؤدون خراجها، فَدَلَّ على جواز الشراء وأخذ الخراج وأدائه للمسلم من غير كراهة انتهى.
Note 1
کتاب المعرفۃ میں ہے کہ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بات تو وہی ہے جو حضرت امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے (کہ خراجی زمین خریدی جاسکتی ہے) کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت خباب بن الارت حضرت حسین بن علی اور حضرت شریح کی زمینات خراجی تھیں۔