Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Hudud

Hadith 3565

Opening narrations

In this book

Current reading

Hudud

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 3565Volume 3

English

Yazid ibn Nu‘aym ibn Hazzal narrated from his father (may Allah be pleased with him): Ma‘iz ibn Malik was an orphan in my father’s care. He had relations with a girl from the tribe. My father said to him: Go to the Messenger of Allah and tell him what you did; perhaps he will seek forgiveness for you, hoping it might be a way out for him. He came to him and said: O Messenger of Allah, I have committed adultery, so establish Allah’s Book on me. He turned away from him. He returned and said: O Messenger of Allah, I have committed adultery, so establish Allah’s Book on me, until he said it four times. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You have said it four times; with whom? He said: With so-and-so. He said: Did you lie with her? He said: Yes. He said: Did you touch her? He said: Yes. He said: Did you have intercourse with her? He said: Yes. He ordered him to be stoned. He was taken to al-Harra. When stoned and felt the stones’ impact, he panicked and ran swiftly. Abdullah ibn Unays met him, as his Companions were unable, and struck him with a camel’s bone, threw it, and killed him. He came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it. He said: Why did you not leave him; perhaps he would repent, and Allah would accept his repentance.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٥٦٥ - وَعَنْ يَزِيْدَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ رضي الله عنه ، قَالَ: كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرٍ أَبِي، فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: ائتِ رَسُولَ اللهِ فَأَخْبِرُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَارَسُوْلَ اللهِ، إِنِيْ زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَّي كِتَابَ اللهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَعَادَ 1، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِيْ زنيت فاقم علي كتاب الله ،حتي قالها اربع مرات ،قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : (انك قد قلتها أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَبِمَنْ؟)) قَالَ: بِفٌلَانَةٍ، قَالَ: (هَلْ ضَاجَعْتَهَا؟) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: (هَلْ بَاشَرْتَهَا؟) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: (هَلْ جَامَعْتَهَا؟) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ، فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ، وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ، فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ، فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَنَى النَّبِيَّ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:(هَلَّا تَرَّكْتُمُوهُ، لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللهُ عَلَيْهِ). رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4835
حضرت یزید بن نعیم بن ہزال سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت ماعز بن مالک یتیم تھے۔ میرے والد کے زیر پرورش تھے انہوں نے قبیلہ کی ایک لڑکی سے زنا کا ارتکاب کیا۔ تو ان سے میرے والد نے کہا تم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو حرکت تم کئے ہو اس کی آپ کو خبر دو تاکہ تمہارے لئے وہ استغفار کریں۔ وہ اس کا صرف اس امید میں ارادہ کئے کہ ان کے لئے کوئی راستہ نکل آئے۔ پس وہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر عرض کئے یا رسول اللہﷺ میں نے زنا کا ارتکاب کیا۔ مجھ پر آپ اللہ کا فرمان جاری کیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے منہ پھیر لئے تو وہ پھر آئے28؎ اور عرض کئے یا رسول اللہ (ﷺ) میں نے زنا کا ارتکاب کیا۔ مجھ پر آپ اللہ تعالیٰ کا فرمان جاری کیجئے۔ یہاں تک کہ اس کو چار مرتبہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے چار مرتبہ یہ جو بات کہی ہے یہ معاملہ کس کے ساتھ ہوا تو انہوں نے عرض کیا فلاں خاتون کے ساتھ تو آپ نے فرمایا کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے تو انہوں نے عرض کیا ہاں تو آپ نے فرمایا کیا تم اس کے ساتھ مباشرت کئے تو انہوں نے عرض کیا ہاں تو آپ نے فرمایا: کیا تم اس کے ساتھ مجامعت کئے؟ تو انہوں نے عرض کیا: ہاں! تو راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ نے ان پر رجم کرنے کا حکم دیا تو ان کو مقام حرہ میں لے جایا گیا جب ان پر رجم ہوا اور وہ پتھر کی تکلیف کو پائے تو ٹھہر گئے اور بھاگنا شروع کئے تو عبداللہ بن انیس ان کو پا لئے جب کہ ان کے ساتھی عاجز ہو چکے تھے تو انہوں نے اونٹ کی پنڈلی کی ہڈی نکال کر ان کو پھینک مارا اور قتل کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا تم ان کو کیوں نہیں چھوڑ دئے ہو سکتا وہ توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4419 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

He returned

(1) The statement: He returned: Meaning he returned after being absent. So it is in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(١) قوله: فعاد: أي فرجع بعد ما غاب. قاله في (المرقاة).