Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

Hadith 359

بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ

Zujajat al-Masabih 359Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٥٩ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيْهِ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ (رضي الله عنه) يَقُوْلُ: أَتَى النَّبِيُّ ﷺ الْغَائِطَ، وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةٌ، فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَقَالَ: فِيْهِ الرُّخْصَةُ فِي الاسْتِطَابَةِ بِحَجَرَيْنِ. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) مِثْلَهُ، وَقَالَ: فَفِي هَذَا الْحَدِيْثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ فَقَعَدَ لِلْغَائِطِ فِي مَكَانٍ لَيْسَ فِيْهِ أَحْجَارُ؛ لِقَوْلِهِ لِعَبْدِ اللهِ: نَاوِلْنِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ»، وَلَوْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَمَا احْتَاجَ إِلَى أَنْ يُنَاوِلَهُ مِنْ غَيْرِ ذَلِكَ الْمَكَانِ. فَلَمَّا أَتَاهُ عَبْدُ اللهِ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، دَلَّ ذَلِكَ عَلَى اسْتِعْمَالِهِ الْحَجَرَيْنِ، وَعَلَى أَنَّهُ قَدْ رَأَى أَنَّ الاِسْتِجْمَارَ بِهِمَا يُجْزِئُ مِمَّا يُجْزِئُ مِنْهُ الِاسْتِجْمَارُ بِالثَّلَاثِ؛ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ لَا يُجْزِئُ الاسْتِجْمَارُ بِمَا دُوْنَ الثَّلَاثِ لَمَا اكْتَفَى بِالْحَجَرَيْنِ وَلَأَمَرَ عَبْدَ اللهِ أَنْ يَبْغِيَهِ ثَالِيًّا، فَفِي تَرْكِهِ ذَلِكَ دَلِيْلٌ عَلَى اكْتِفَائِهِ بِالْحَجَرَيْنِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 42 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں دو پتھر سے طہارت کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

Note 2

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ قضائے حاجت کے لئے تشریف رکھے تھے کہ جہاں پتھر نہ تھے، اسی لئے آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دوسری جگہ سے تین پتھر لانے کے لئے فرمایا تھا اور اگر اس جگہ پر کچھ پتھر ہوتے تو آپ کو اس کی احتیاج نہ ہوتی کہ دوسری جگہ سے پتھر منگوائیں اور جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک خشک لید لے آئے تو لید کو پھینک دیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے دو ہی پتھر استعمال فرمائے اور جس طرح تین پتھر سے طہارت ہو جاتی ہے اسی طرح دو سے بھی ہو جاتی ہے، اور اگر دو پتھر سے طہارت کرنا کافی نہ ہوتا اور تین کا لینا ضروری ہوتا تو آپ دو پر اکتفاء نہ فرماتے، ورنہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ تیسرا تلاش کریں، جب آپ نے تیسرے کی تلاش کا حکم نہیں دیا تو معلوم ہوا کہ دو پر اکتفاء کرنا جائز ہے اور طاق ہونا ضروری نہیں۔12