Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب الامارۃ والقضاء

Hadith 3625

کتاب الامارۃ والقضاء

In this book

Current reading

کتاب الامارۃ والقضاء

کتاب الامارۃ والقضاء

Zujajat al-Masabih 3625Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٦٢٥. وعن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال : بايعنا رسول الله صلي الله عليه وسلم علي السمع وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَأَثَرَةً عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقَّ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: (وَعَلَى 1 أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ). مُتَّفَقُّ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7056 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7199 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1709h (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

...and not to dispute authority with its rightful holders unless you see clear disbelief,

(1) Regarding the saying: "...and not to dispute authority with its rightful holders unless you see clear disbelief," etc.: This means not to challenge the authority of rulers or object to them unless you see clear wrongdoing that you know violates Islamic principles. If you see this, denounce it and uphold the truth wherever you are. However, rebelling against them or fighting them is prohibited by the consensus of Muslims, even if they are immoral or oppressive. The people of the Sunnah agree that a ruler is not removed for immorality to avoid unrest, bloodshed, and division, as the harm of removing him outweighs keeping him. They also agree that leadership cannot be given to a disbeliever. If disbelief or alteration of the Sharia or innovation arises in a ruler, his obedience is nullified, and Muslims must remove him and appoint a just imam if possible. For an innovator, this applies only if they believe they can succeed; otherwise, Muslims should migrate from his land to preserve their faith. In Sharh al-Aqa'id, it is stated that there is consensus on the obligation to appoint an imam, as many religious duties depend on it, such as enforcing rulings, implementing penalties, securing borders, equipping armies, collecting charity, subduing oppressors and bandits, establishing Friday and Eid prayers, marrying minors without guardians, and distributing spoils. It is also stated that an imam is not removed for immorality, as infallibility is not a condition for leadership initially or continuously. Al-Shafi'i held that an imam is removed for immorality, as is any judge or leader, because an immoral person is not fit for authority, as he cannot care for others if he neglects himself. According to Abu Hanifa, such a person remains eligible for authority, so an immoral father can marry off his minor daughter. Shafi'i texts state that a judge is removed for immorality, unlike an imam, because removing an imam causes unrest due to his power, unlike a judge.

Note 1

قوله

(١) قوله: وعلى أن لا ننازع الأمر أهله إلا أن ترو كفرًا بواحا إلخ: والمعنى لا تنازعوا وُلاة الأمور في ولايتهم، ولا تعترضوا عليهم إلا أن تروا منهم مُنكَرًا محقَّقًا تعلمونه من قواعد الإسلام، فإذا رأيتم ذلك فأنكروه عليهم، وقوموا بالحق حيثما كنتم، وأما الخروج عليهم وقتالهم فمحرم بإجماع المسلمين، وإن كانوا فَسَقَةً ظالمين، وأجمع أهل السنة على أن السلطان لا ينعزل بالفسق لتهيج الفتن في عزله وإراقة الدماء وتفريق ذات البين، فتكون المفسدة في عزله أكثر منها في بقائه، وأجمعوا على أن الإمامة لا تنعقد لكافر. ولو طرأ عليه الكفر انعزل، وكذا لو ترك إقامة الصلوات والدعاء إليها، وكذا البدعة. قال القاضي: فلو طرأ عليه كفر وتغيير في الشرع أو بدعة، سقطت إطاعته، ووجب على المسلمين خلعه ونصب إمام عادل إن أمكنهم ذلك، ولا يجب في المبتدع إلا إذا ظنوا القدرة عليه، وإلا فيهاجر المسلم عن أرضه إلى غيرها ويفر بدينه. وفي (شرح العقائد): الإجماع على أن نصب الإمام واجب؛ لأن كثيرا من الواجبات الشرعية يتوقف عليه، كتنفيذ أحكام المسلمين، وإقامة حدودهم، وسد ثغورهم، وتجهيز جيوشهم، وأخذ صدقاتهم، وقهر المتغلبة والمتلصصة وقطاع الطريق، وإقامة الجمعة والأعياد، وتزويج الصغير والصغيرة اللذَّيْنِ لا أولياء لهما، وقسمة الغنائم، ونحو ذلك من الأمور التي لا يتولاها آحاد الأمة. ثم قال: ولا ينعزل الإمام بالفسق؛ لأن العصمة ليست بشرط للإمامة ابتداءً فبقاءً أولى. وعن الشافعي أن الإمام ينعزل بالفسق، وكذا كل قاض وأمير. وأصل المسألة أن الفاسق ليس من أهل الولاية من أهل الولاية عند الشافعي؛ لأنه لا ينظر لنفسه فكيف ينظر لغيره. وعند أبي حنيفة هو من أهل الولاية حتى يصحُّ للأب الفاسق تزويج ابنته الصغيرة، والمسطور في كُتُب الشافعية أن القاضي ينعزل بالفسق بخلاف الإمام، والفرق أن في انعزاله ووجوب نصب غيره إثارة الفتنة لما له من الشوكة بخلاف القاضي. كذا في (المرقاة).

Note 1

2قوله: وعلى ان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحا الخ (ہم صاحب اقتدار سے اقتدار کے بارے میں اختلاف نہ کریں مگر یہ کہ تم ان سے ایسا کھلا کفر دیکھو) اس ارشاد گرامی کے معنی یہ ہیں کہ حاکموں سے ان کے اقتدار میں جھگڑا مت کرو۔ اور ان پر اعتراض مت کرو۔ مگر جب تم ان سے اسلامی قواعد کے مطابق یقینی طور پر کسی برائی کو دیکھو تو تب ان کو اس کی برائی بتاؤ اور تم جہاں کہیں رہو حق کو قائم کرو۔ اب رہا ان کے خلاف خروج کرنا اور ان سے جنگ کرنا بالاتفاق حرام ہے اگرچہ وہ فاسق اور ظالم ہوں۔ اور اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بادشاہ فسق کی وجہ سے معزول نہیں ہوتا کیونکہ اس کو معزول کرنے میں فتنے بھڑکتے ہیں اور خون خرابہ ہوتا ہے اور آپس میں تفرقہ پڑتا ہے اس لئے کہ اس کو معزول کرنے میں اس کے باقی رہنے سے بڑھ کر فساد ہوتا ہے اور اس بات پر اتفاق ہے کہ امامت (حکومت) کافر کے لئے منعقد نہیں ہوتی اور اگر اس سے کفر سرزد ہو جائے تو وہ معزول ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر وہ نمازوں کو قائم کرنے اور نمازوں کی طرف دعوت دینے کو چھوڑ دے۔ اسی طرح بدعتوں کی وجہ سے (وہ معزول ہو جائے گا) قاضی نے فرمایا: اگر اس پر کفر طاری ہو جائے یا شریعت میں کوئی تبدیلی کر لے یا بدعت آ جائے (یعنی ہو جائے) تو اس کی اطاعت ختم ہو جائے گی اور اگر ممکن ہو تو اس کو ہٹانا اور امام عادل کو مقرر کرنا مسلمانوں پر واجب ہو جائے گا اور بدعی امیر کے بارے میں اگر مسلمانوں کو یہ اندازہ ہو کہ اس کو ہٹانے کی قدرت ہے تو ہٹانا واجب ہے ورنہ مسلمان اپنے دین کی خاطر اس کی زمین سے دوسری طرف ہجرت کر کے چلے جائیں۔ اور شرح عقائد میں اس بات پر اجماع ہے کہ امام کو مقرر کرنا واجب ہے کیونکہ بہت سے شرعی واجبات اس پر موقوف ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کے واجبات اس پر موقوف ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کے احکام کو نافذ کرنا اور حدود قائم کرنا اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور مسلمان فوج کو تیار کرنا اور مسلمانوں سے صدقات، زکوٰۃ وغیرہ لینا اور باغیوں، چوروں، لٹیروں کو دبانا، جمعہ اور عیدین کو قائم کرنا، چھوٹے بچے، بچیوں کی شادی کرنا جن کے کوئی سرپرست نہیں اور مال غنیمت تقسیم کرنا اور اس جیسے بہت سے وہ امور جن کو امت کے افراد الگ الگ انجام نہیں دے سکتے۔ پھر انھوں (صاحب شرح عقائد) نے یہ کہا: امام فسق کی وجہ سے معزول نہیں ہوگا کیونکہ امامت کے لئے عصمت ابتداء ہی میں شرط نہیں ہے لہٰذا امامت پر باقی رہنے کے لئے بدرجہ اولیٰ شرط نہیں ہوگی۔ اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ فسق کی وجہ امام معزول ہو جائے گا۔ اور اسی طرح قاضی اور امیر بھی (فسق کی وجہ سے معزول ہو جائیں گے (اصل مسئلہ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس یہ ہے کہ فاسق اہل ولایت یعنی اقتداری صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ جب وہ اپنا خیال نہیں کرتا تو دوسروں کا کیا خیال رکھے گا۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس فاسق اہل ولایت سے ہے یہاں تک کہ فاسق باپ کو اپنی چھوٹی بچی کی شادی کرانے کا حق حاصل ہے اور شافعی کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ قاضی فسق سے معزول ہو جاتا ہے برخلاف امام کے (یعنی وہ فسق سے معزول نہیں ہوتا) اور اس (امام) کے معزول ہونے اور دوسرے کو امام مقرر کرنے میں فرق یہ ہے کہ اس کے اقتدار کی وجہ سے فتنہ بھڑکتا ہے برخلاف قاضی کے۔ (مرقات)