اردو
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے میرے پاس قاصد کو روانہ فرمایا کہ تم اپنے ہتھیار اور اپنے کپڑوں کو جمع کر کے میرے پاس
آ جاؤ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وضو فرما رہے تھے۔ آپ نے
فرمایا اے عمرو میں نے تم کو اس لئے بلا بھیجا تھا کہ تم کو کسی کام پر روانہ کروں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت
رکھے اور مال غنیمت عطا کرے۔ اور میں تم کو کچھ مال دینا چاہتا ہوں تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ
ﷺ میری ہجرت مال کے لئے نہیں تھی وہ تو صرف اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے تو آپ ﷺ
نے فرمایا کتنی اچھی چیز ہے۔ اچھا مال اچھے آدمی کے لئے۔ یہ روایت شرح السنہ میں ہے۔
امام احمد نے بھی ایسی ہی روایت کی ہے اور ان کی روایت میں الفاظ یہ ہیں
”نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ“ اچھا مال اچھے آدمی کے لئے کتنا اچھا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3756 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.930
Mishkat (candidate) 3756
Confidence and text similarity are not editorial verification.