Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْجِهَادِ

Hadith 3828

بَابُ إِعْدَادِ آلَةِ الْجِهَادِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْجِهَادِ

بَابُ إِعْدَادِ آلَةِ الْجِهَادِ

Zujajat al-Masabih 3828Volume 3

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٨٢٨ - وَعَنْهُ رضی الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم عَبْدًا مَأْمُورًا مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا 2 بِثَلاَثٍ: أَمَرَنَا أَنْ نسبغ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا تَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ. وفي رواية لابي داود والنسائی عن علي رضي الله عنه قال: اهديت للنبي صلي الله عليه وسلم بغلة فركبها فَقَالَ عَلِيٍّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيْرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَهَا مِثْلُ هَذِهِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ). وَقَالَ الطَحَاوِيُّ: 3 إِنَّ النَّهيَ نَهيُ إِرْشَادٍ شَفَقَة؛ كَيْلَا يَكُوْنَ تَقْلِيْلُ آلَّةِ الْجِهَادِ، فَإِنَّ الْفَرَسَ يَعْمَلُ مَا لَا يَعْمَلُ الْبَغْلُ. فَالْخَاصِلُ: أَنَّ تَحْصِيْلَ الْبِغَالِ لَيْسَ غَيْرُ جَائِزٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2565 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1701 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 2

except in three things, etc.

(2) The statement: "except in three things, etc.": The distinction in perfecting ablution and breeding is problematic, as the first is recommended and commanded for everyone, and the second is disliked and prohibited for everyone. Indeed, the prohibition of eating charity is specific to the Prophet’s household. It is answered that the intent is obligation, which is specific to them, or the intent is to emphasize or stress it. It is also said: This is like Ali’s saying, "except in this document," meaning the negation of distinction or consultation in any rulings, as these things are not specific to them. As stated in (Al-Luma‘at).

Note 3

At-Tahawi said, etc.

(3) The statement: "At-Tahawi said, etc.": The original wording is as follows: If someone asks, "What is the meaning of the Prophet (ﷺ) distinguishing Banu Hashim with the prohibition of breeding donkeys with horses?" It is said to him: When Ibn Abi Dawud narrated to us, he said: Abu Umar al-Hawdi narrated to us, saying: Al-Marji, who is Ibn Raja, narrated to us, saying: Abu Jahdam narrated to me, saying: Ubaydullah ibn Abdullah narrated from Ibn Abbas, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) did not distinguish us except in three things: not to eat charity, to perfect ablution, and not to breed a donkey with a horse. I met Abdullah ibn al-Hasan while he was circumambulating the Ka‘bah and told him this, and he said: "True, horses were few among Banu Hashim, so he wanted them to increase among them." Abdullah ibn al-Hasan explained that the reason the Prophet (ﷺ) distinguished Banu Hashim with not breeding donkeys with horses was not for prohibition but due to the scarcity of horses among them. When that reason is removed and horses become abundant among them, they are like others. The Prophet’s (ﷺ) distinction of them with this prohibition indicates its permissibility for others. Since he (ﷺ) made keeping horses carry the reward and merit we mentioned, and when asked about keeping donkeys, he did not assign any reward to it, and mules, which are unlike horses, are similar. Thus, those who prefer to produce what has no reward in keeping or acquiring over what has reward are among those who do not know. It is established that producing mules is permissible for Banu Hashim and others, though producing horses is better, and this is the opinion of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad, may Allah have mercy on them all. As stated in (Ad-Durr al-Mukhtar): Breeding donkeys with horses is permissible, as is the reverse, as in (Qahastani). In (Takmilat Bahr ar-Ra’iq): It is permissible to breed donkeys with horses because he (ﷺ) rode and kept a mule, and if it were forbidden, he would not have done so, as it would open its door. As stated in (Al-Hidayah).

Note 2

قوله

(٢) قوله: إلا بثلاث إلخ: ويشكل الاختصاص في الإسباغ والإنزاء، فإن الأول مستحب، أمر به كل واحد، والثاني مكروه، نهى عنه كل أحد. نعم، حرمة أكل الصدقه مخصوص بأهل البيت، ويجاب بأن المراد الإيجاب، وهو مختص بهم، أو المراد الحث على المبالغة أو التاكيد. وقيل: هذا كقول علي إلا في هذه الصحيفة، فالمقصود نفي الاختصاص والاستيشار بشيء من الأحكام، فإن هذه الأشياء ليست بمخصوصة لهم. كذا في (اللمعات).

Note 3

قوله

(٣) قوله: وقال الطحاوي إلخ: وأصل عبارته هكذا، فإن قال قائل: فما معنى اختصاص النبي صلي الله عليه وسلم بني هاشم بالنهي عن إنزاء الحمير على الخيل؟ قيل له: لما حدثنا ابن أبي داود، قال: حدثنا أبو عمر الحوضي قال: حدثنا المرجي هو ابن رجاء قال: حدثنا أبو جهضم قال: حدثني عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال: ما اختصنا رسول الله صلي الله عليه وسلم إلا بثلاث: أن لا نأكل الصدقة، وأن نسبغ الوضوء، وأن لا ننزي حمارا على فرس. قال: فلقيت عبد الله بن الحسن، وهو يطوف بالبيت فحدثته، فقال: صدق كانت الخيل قليلة في بني هاشم، فأحب أن تكثر فيهم، فبين عبد الله بن الحسن بتفسيره هذا المعنى الذي له اختص رسول الله صلي الله عليه وسلم بني هاشم أن لا ننزي الحمار على فرس، وأنه لم يكن للتحريم، وإنما كانت العلة قلة الخيل فيهم، فإذا ارتفعت تلك العلة، وكثرت الخيل في أيديهم صاروا في ذلك كغيرهم. وفي اختصاص النبي صلي الله عليه وسلم إياهم بالنهي عن ذلك دليل على إباحته إياه لغيرهم، ولما كان صلي الله عليه وسلم قد جعل في ارتباط الخيل ما ذكرنا من الثواب والأجر، وسئل عن ارتباط الحمير، فلم يجعل في ارتباطها شيئًا، والبغال التي هي خلاف الخيل مثلها كان من ترك أن تنتج ما في ارتباطه وكسبه ثواب وانتج ما لا ثواب في ارتباطه وكسبه من الذين لا يعلمون. فقد ثبت بما ذكرنا إباحة نتج البغال لبني هاشم وغيرهم، وإن كان انتاج الخيل أفضل من ذلك، وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين، انتهى. وقال في (الدر المختار): وجاز إنزاء الحمير على الخيل كعكسه، (قهستاني). وقال في (تكملة البحر الرائق): يعني جاز إنزاء الحمير على الخيل؛ لأنه صلي الله عليه وسلم ركب البغل واقتناه، ولو حرم لما فعل. لما فيه من فتح بابه. قاله في الهداية.

Note 1

کیونکہ گھوڑا وہ کام کرتا ہے جو خچر نہیں کر سکتا پس خلاصہ یہ ہے کہ خچروں کو پیدا کروانا ناجائز نہیں ہے۔

Note 2

12قولہ: وقال الطحاوی (امام طحاوی نے کہا) الخ ان کی اصل عبارت اس طرح ہے فان قال قائل فما معنى اختصاص النبي صلى الله عليه وسلم بني هاشم بالنهي عن انزاء الحمير على الخيل. پس اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھوں کو گھوڑیوں پر چھوڑنے کی ممانعت کو بنی ہاشم کے ساتھ خاص کرنے کے کیا معنی ہیں تو اس کا جواب درج ذیل حدیث شریف میں ہے۔ ابو خثیم نے کہا مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دو سروں سے سوائے تین باتوں کے کسی بات میں خاص نہیں کیا۔ 1- یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں۔ 2- یہ کہ ہم کامل طور پر وضو بنائیں۔ 3- یہ کہ گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چھوڑیں۔ انہوں (عبیداللہ بن عبداللہ) نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن حسن سے جب وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ملاقات کی تو میں نے ان سے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ کہتے ہیں۔ بنی ہاشم کے پاس گھوڑے تھوڑے ہی تھے تو آپ ﷺ نے یہ پسند فرمایا کہ گھوڑے ان کے پاس زیادہ ہوں۔ پس عبداللہ بن حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تفسیر میں اس کی مراد یہ بتایا جس کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی ہاشم کے لئے یہ خاص کیا تھا کہ وہ گھوڑیوں پر گدھوں سے جفتی نہ کرائیں اور یہ حکم اس کے حرام ہونے کی بناء پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کے پاس گھوڑوں کا کم ہونا تھا۔ پس جب یہ وجہ باقی نہیں رہی اور ان کے پاس گھوڑے زیادہ ہوگئے تو وہ اس مسئلہ میں دوسروں کی طرح ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مسئلہ میں خاص ان کے لئے ہی کرنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دوسروں کے لئے جائز ہے اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو باندھ کر رکھنے میں اجر و ثواب بتایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور آپ ﷺ سے گدھوں کے باندھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے باندھنے میں کچھ بھی ((اجر)) قرار نہیں دیا اور خچر بھی جو گھوڑوں کے برخلاف ہیں اور ان (گدھوں) کے جیسے ہیں تو گویا جو آدمی ان جانوروں کی افزائش نسل کو چھوڑے جن کے پالنے میں اور کسب میں ثواب ہے اور ان جانوروں کی افزائش نسل کرے جن کو باندھ کر رکھنے اور ان کے کسب میں کوئی ثواب نہیں ہے تو ایسا آدمی ان لوگوں میں سے ہے جو ناواقف ہیں جانتے نہیں ہیں۔ ہمارے اس بیان سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ بنی ہاشم اور دوسروں کے لئے خچروں کی افزائش نسل جائز ہے اگرچہ گھوڑوں کی افزائش نسل اس سے افضل ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی قول ہے۔ اور صاحب درمختار نے کہا ہے کہ گھوڑیوں پر گدھوں کی جفتی کرانا جائز ہے جیسا کہ اس کا برعکس جائز ہے۔ (قہستانی) اور صاحب تکملہ البحر الرائق نے کہا گھوڑیوں پر گدھوں کی جفتی کرانا جائز ہے کیونکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام بھی خچر پر سوار ہوئے ہیں اور اس کو رکھے بھی ہیں اور اگرچہ یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ یہ عمل نہ فرماتے کیونکہ اس سے اس کا دروازہ کھلتا ہے یہ بات صاحب ہدایہ نے کہی ہے۔ 13 قوله: كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم من فضة (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوار کی ٹوپی چاندی کی تھی) ردالمحتار میں ہے کہ تلوار پر چاندی چڑھانے کے مسئلہ میں شرط یہ ہے کہ چاندی کے مقام پر ہاتھ نہ رکھے۔ اور نسائی کے الفاظ میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے میان کا سرا چاندی کا تھا اور آپ ﷺ کی تلوار کی ٹوپی اور اس کے درمیان کا حصہ چاندی کا تھا۔ اور لفظ ”قَبِيعَةٌ“ ”ق“ اور ”ب“ پھر ”ی“ اس کے بعد ”ع“ مہملہ ہے اور سفینہ کے وزن پر ہے تلوار کے قبضہ پر چاندی یا لوہے کا سرا ہوتا ہے۔ (شرح النقایہ) اور عالمگیریہ میں ہے قبیعہ وہ ہے جو تلوار کی نوک یا اس کے دستہ میں چاندی کا سرا ہوتا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا اگر چمڑی میں چاندی کے مقام کو پکڑے گا تو یہ مکروہ ہے ورنہ مکروہ نہیں ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ مطلقاً مکروہ ہے اور ردالمحتار میں ہے پھل، قبضہ، نیام میں ہاتھ رکھنے کی جگہ سے اجتناب کرے۔ تلوار کا پانی چاندی کا ہوسکتا ہے سونے کا نہیں۔ (ردالمحتار) عالمگیری میں اور کتاب ”سیر“ میں ہے کہ تلوار کو سونے کا پانی چڑھانا مناسب نہیں ہے اگرچیکہ جنگ میں ہو کیونکہ جنگ میں سونے کا پانی چڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور وہ تو محض زینت کے لئے ہے۔ اور انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرے جب تلوار میں یہ بات ہے تو اس کے پرتلے میں بدرجہ اولیٰ (مناسب نہیں) ہے (تمرتاشی) صاحب قہستانی نے شرح نقایہ میں فتاویٰ قاضی خان سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمر پٹہ اور ہتھیار اور تلوار کے پرتَلوں کو ان (فقہاء) کے قول میں چاندی لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور سونے کا پانی چڑھانا، بعض فقہاء کے قول میں مکروہ ہے یہ سب اس وقت ہے جب کہ خالص چاندی یا سونا لگائے اور اگر خالص چاندی و سونا نہ ہو تو تمام فقہاء کے پاس اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عالمگیری میں ہے کمر ہتھیار کو چاندی یا سونے کا پانی چڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (سرایہ) اور مجمع البرکات میں ہے لیکن پانی چڑھانا (چاندی، سونے کا) جس میں خالص سونا یا چاندی نہیں ہوتی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (مختلف حواشی کا خلاصہ) 14 قولہ: كان عليه يوم احد درعان قد ظاهر بينهما (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اُحد کے دن دو زرہ میں تھے) اس طرح سے ان دونوں میں سے ہر ایک زرہ دوسرے کے اوپر تھا اور یہ لفظ ”تظاہر“ سے ہے۔ اس کے معنی تعاون کرنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے۔ (نہایہ) اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جدوجہد کے اسباب اختیار کرنے میں مبالغہ کرنا چاہئے اور یہ بات توکل کے منافی ہے اور نہ واقع ہو کر رہنے والے امور مقدرہ کو تسلیم کرنے کے منافی ہے۔ (مرقات) 1قولہ: اللهم بارك لامتى فى بكورها الخ (اے اللہ تو میری امت کے لئے اس کی صبح کے ابتدائی وقت میں برکت عطا فرما) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور آپ ﷺ کے اس عمل کی بناء پر صبح کے ابتدائی وقت میں سفر کرنا، تحصیل علم کرنا اور معیشت کا کام کرنا وغیرہ کا سنت ہونا ثابت ہوا۔ (ماخوذ از بذل المجہود، مرقات) 2 قولہ: ما سار راكب بليل وحده (کوئی سوار رات میں تنہا سفر نہ کرے گا) مہلب نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات میں تنہا سفر کرنا سے منع فرمانا یہ تنہا آدمی پر شیاطین کے اندیشہ سے ہے کیونکہ وہ وقت ان کے پھیلنے کا ہے اور ان کو گھبراہٹ میں ڈالنے اور وسوسے ڈالنے اور مختلف شکلوں میں ظاہر ہو کر تکلیف پہنچانے کے اندیشہ کی وجہ سے ہے۔ اسی لئے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں اپنے بچوں کو روک لیں اور باوجود اس کے تنہا نکلنا حرام نہیں ہے وہ صرف مکروہ ہے۔ پس جو آدمی افضل چیز یعنی ساتھی کو اختیار کرے گا تو وہ بہتر ہے اور جو تنہا نکل گیا تو وہ حرام کا نہیں کیا۔ اور علامہ طیبی نے فرمایا اور جب تنہا نکلنے میں مصلحت ہو جیسے کسی جاسوس کو یا حالات معلوم کرنے والے کو روانہ کرنا ہے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ (ماخوذ از عمدۃ القاری) 3 قولہ: فليؤمروا احدهم یعنی ان میں کسی ایک کو اپنا امیر بنا لیں تاکہ کسی جھگڑے اور اختلاف کے موقعہ پر تصفیہ کرنا آسان رہے۔ اور یہ حکم استحبابی ہے۔ (بذل المجہود) 4 قولہ: ولا جرس، عالمگیری میں ہے جانوروں میں گھنٹی کے لٹکانے سے متعلق علماء کا اختلاف ہے۔ ان میں بعض نے کہا کہ ہر قسم کے سفر میں مکروہ ہے خواہ وہ جنگ ہو یا اس کے سوا کوئی دوسرا ہو سب سفر برابر ہیں۔ اور ان کے پاس سفر کی طرح حضر میں بھی مکروہ ہے اور اسی طرح بچوں کے پاؤں میں گھنٹیاں باندھنا (مکروہ ہے) اور امام محمد رحمہ اللہ نے سیر کبیر میں فرمایا گھنٹیاں باندھنا غازیوں کے لئے دارالحرب میں مکروہ ہے۔ اور یہی ہمارے علماء کا مذہب ہے کیونکہ دارالحرب میں جانوروں کو گھنٹیاں باندھنے سے دشمن مسلمانوں کے مقام سے باخبر ہو جائیں گے۔ اگر مسلمان کم تعداد میں ہوں تو ان کی طرف جھپٹ کر ان کو قتل کر دیں گے اور اگر مسلمان بڑی تعداد میں ہوں تو کفار ان سے بچنے اور محفوظ ہونے کی کوشش کریں گے، پس اسی لئے علماء نے کہا قافلہ اگر دارالاسلام میں ایسے مقام میں ہو کہ لٹیروں کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بھی جانوروں کو گھنٹیاں لٹکانا مکروہ ہے تاکہ چور ان سے باخبر نہ ہو جائیں اور ان کو قتل کرنے اور مال لوٹنے کی تیاری نہ کریں۔ ہم نے جو جواب گھنٹی سے متعلق ذکر کیا ہے، وہی جواب پاؤں میں چھوٹی گھنٹیاں باندھنے کا بھی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کتاب سیر میں فرماتے ہیں اب رہا یہ کہ جو آدمی دارالاسلام میں ہو اور اس میں سوار کے لئے فائدہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔...... ۔۔۔ اور انہوں نے کہا کہ گھنٹی لٹکانے میں بہت فائدے ہیں۔ 1۔ جو آدمی قافلے سے بھٹک جائے تو وہ گھنٹی کی آواز سے ان سے مل جائے گا۔ 2۔ گھنٹی کی آواز رات کے موذی جانوروں کو جیسے بھیڑیا وغیرہ ہیں قافلے سے بھگا دیتی ہے۔ 3۔ اور یہ گھنٹی کی آواز جانوروں میں نشاط پیدا کرتی ہے۔ پس وہ حدی خوانی کی طرح ہے۔ (محیط) امام نووی وغیرہ نے کہا ہے کہ جمہور علماء کے پاس یہ مکروہ تنزیہی ہے اور اس کو مکروہ تحریمی بھی کہا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بے ضرورت منع ہے اور ضرورت کے وقت جائز ہے۔ اور امام مالک رحمہ اللہ مکروہ ہونے کو تانت کے ذریعہ قلادہ ڈالنے سے خاص کرتے ہیں۔ اور اس کے سوا جب کہ نظر بد کو دفع کرنا مقصود نہ ہو تو جائز ہے۔ (عمدة القاری) 5قوله : لا تبقين فى رقبة بعير قلادة من وتر الخ (باقی نہ رکھا جائے کسی بھی اونٹ کے گلے میں تانت کا کوئی ہار) امام نووی نے کہا کہ امام محمد بن الحسن اور ان کے سوا دوسروں نے بھی کہا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم ریشم کے تانت کا ہار مت ڈالو تا کہ اس کی گردن میں تنگ نہ ہو کہیں اور اس کا گلا نہ گھٹ جائے۔ (انتہیٰ) اور اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ بعض دفعہ وہ جانور کی درخت کو چرنے کا یا اس سے اپنی گردن کو کھجلانے کا تو وہ اس سے اٹک جائے گا۔ (مرقات) 6قولہ: لا تتخذوا ظهور دوابكم منابر (تم اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر مت بناؤ) خطابی نے کہا یہ بات ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا۔پس اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سواریوں کی پشت پر ٹھہرنا اگر اس کی کوئی ضرورت ہو یا کسی ایسی حاجت کو پورا کرنا ہو جو زمین پر اترنے سے پوری نہیں ہوسکتی تو(سواری پر ٹھہرنا) مباح ہے۔اس کے سوا نہیں کہ اس پر ٹھہرنے کی یہ ممانعت ایسی صورت میں ہے جب کہ اس کے لئے ضروری بات نہ ہو ورنہ سواری کو بلا ضرورت مشقت میں ڈالنا ہے۔ 7قولہ: من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له الخ (جس کے ساتھ زائد سواری ہو تو وہ اس کو اس آدمی کو دے جس کے پاس سواری نہیں ہے) امام نووی نے کہا کہ اس میں ساتھیوں اور احباب کے ساتھ صدقہ، ہمدردی اور احسان کرنے اور ان کی مصلحتوں کا خیال رکھنے اور ضرورت مند کی ضرورت ان کے بغیر مطالبہ کے اور دوستی کے ذریعہ پورا کرنے کی ترغیب ہے اگر چہ اس کے پاس سواری ہو اور اس پر کپڑے ہوں اگر چہ وہ اپنے وطن میں مالدار ہو تو ایسی حالت میں اس کو زکوۃ میں سے بھی دیا جا سکتا ہے۔ (مرقات) 8 قوله: السفر قطعة من العذاب الخ (سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے) شرح السنہ میں ہے کہ اس میں زانی کو شہر بدر کرنے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ‘‘ (24۔ سورۃ النور، آیت نمبر:2) ان کے عذاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہے۔ اور تغریب یعنی شہر بدر کرنا بھی کوڑے لگانے کی طرح ایک عذاب ہے۔ یہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس ہے اور الملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ تغریب یقیناً عذاب ہے لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس اس سے مراد یہی ہے یا نہیں؟ اس میں کلام ہے اور اختلاف اس بارے میں ہے کہ وہ حد کے طور ہے یا سیاسی مصلحت کی بناء پر ہے۔ صاحب ہدایہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”فَاجْلِدُوهُمْ“ ہماری دلیل ہے، حرف ”فا“ سے معلوم ہوتا ہے جلد یعنی کوڑے لگانا مکمل سزا ہے یا اس بات سے ساری مذکورہ بات جلد یعنی کوڑے لگانے کی ہی ہے اور اس مسئلہ پر گفتگو کتاب الحدود میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔ 9 قوله: فادخلنا المدينة ثلاثة على دابة الخ (جب ہم مدینہ داخل ہوئے تین آدمی ایک سواری پر تھے) حدیث شریف دلالت کرتی ہے کہ ایک جانور پر تین آدمی بیٹھنا جائز ہے اور یہ اس وقت ہے جب کہ اونٹنی اس کی طاقت رکھتی ہو اور جب اس میں اس کی طاقت نہ ہو تو جائز نہیں ہے۔ (بذل المجہود) 10قولہ: لا انت احق بصدر دابتك الخ (نہیں تم اپنی سواری کے سامنے کے حصہ پر بیٹھنے کے زیادہ حق دار ہو) اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف اور آپ ﷺ کی تواضع اور تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ پیچھے بیٹھنے کو پسند فرمایا اور ان کے غالب رضا پر اعتماد نہ فرمایا۔ (مرقات) صاحب بذل المجہود نے کہا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا باوجود یہ کہ انہوں نے اپنی سواری کے سامنے کا حصہ آپ کے لئے کر دیا تھا مسئلہ پر تنبیہ کرنے کے لئے تھا۔ 11قولہ: قال ما انتما باقوى مني، و ما انا باغنى عن الاجر منكما الخ (تم دونوں مجھ سے زیادہ قوت والے نہیں ہیں نہ میں تم سے بڑھ کر ثواب سے بے نیاز ہوں) علامہ طیبی نے کہا اس میں آپ ﷺ کا انتہائی اظہار تواضع اور ساتھیوں کے ساتھ ہمدردی اور اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی احتیاج کا اظہار ہے۔ (مرقات) 12قولہ: لا يطرق اهله ليلا الخ (اپنے گھر والوں کے پاس (سفر سے) رات میں نہیں آتے تھے) امام نووی نے کہا ہے کہ شخص طویل سفر کیا ہو اس کے لئے رات کے وقت آنا مکروہ ہے۔ اور لیکن جس نے قریبی سفر کیا ہو اور اس کے رات میں آ جانے کی توقع ہو اور اسی طرح جس کا سفر طویل رہا لیکن اس کے آنے کی اطلاع مشہور ہو اور اس کی بیوی کو بھی اس کا آنا معلوم ہو تو ایسے آدمی کے لئے رات میں آنا مکروہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا (اس کی کراہت کا) جو سبب تھا وہ ختم ہو گیا۔ کیونکہ مقصد (عورت کا اس کے لئے) تیار رہنا ہے وہ حاصل ہو گیا۔ میں کہتا ہوں کہ (اس کے لئے پہنچنے کے بعد) دروازہ کھٹکھٹانا اور جواب کا انتظار کرنا ضروری ہے اور ان کا اس کو مکروہ کہنا یہ شرعی قواعد کے تقاضے کی بناء پر نہیں ہے بلکہ فلسفی حکماء کے کلام کے مطابق ہے۔ (مرقات) 13 قولہ: اذا قدم من سفر اول الليل (اپنے گھر والوں میں آنے کا سب سے بہتر وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے۔) صاحب لمعات نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اور اس حدیث میں جس میں رات میں آنے سے منع کیا گیا ہے تطبیق اس طرح ہے۔ اس حدیث کو قریب ہی سفر پر محمول کیا جائے امام نووی نے کہا اور اس طرح جب سفر طویل ہو جائے اور اس کے آنے کی خبر بھی مشہور ہو جائے تو ایسی صورت میں (رات میں آنے میں) کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ مقصد (عورت کا) تیاری کرنا ہے اور وہ اس سے حاصل ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنے گھر والوں میں آنے سے مراد مجامعت ہے کیونکہ مسافر پر دور رہنے کی وجہ سے شہوت کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ خواہش سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور جب وہ اول رات میں اپنی خواہش پوری کر لے گا تو اس کا بدن ہلکا اور نفس میں سکون رہے گا اور نیند بھی خوشگوار رہے گی۔ نیز اس میں اظہار محبت اور اظہار شوق اور حقوق کی ادائی میں جلدی ہے اور انتظار کی تکلیف کو دور کرنا ہے۔ (مرقات) 14 قولہ: حتى تستحد المغيبة (یہاں تک کہ جس کا شوہر غائب تھا بال صاف کر لے) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس سے مراد زیر ناف کے بال صاف کرنا ہے کیونکہ اس سے عام طور پر عورتوں میں جو عادل ہے بال کو اکھاڑنا اور ”نورہ“ چونا وغیرہ کا استعمال کرنا ہے۔ استرے کا استعمال مراد نہیں ہے کیونکہ یہ عورتوں کے لئے مستحسن نہیں ہے۔ 15قولہ: فصل فيه ركعتين (تم مسجد میں جاؤ اور اس میں دو رکعت نماز پڑھو) صاحب درمختار نے کہا ہے کہ سفر کی دو رکعتیں اور سفر سے آنے کے وقت کی دو رکعتیں مستحب ہیں۔ اور شامی نے کہا ہے کہ صاحب درمختار کا قول ركعتا السفر الخ (سفر کی دو رکعتیں اور واپسی پر دو رکعتوں سے متعلق) ⟦?⟧ بن مقدام سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما خلف احد عند اهله افضل من ركعتين ...... الخ آدمی جو سفر کا ارادہ کرتا ہے تو نہیں چھوڑتا اپنے گھر والوں میں کوئی چیز ان دو رکعت سے افضل جس کو وہ ان کے پاس پڑھتا ہے۔ (طبرانی) اور کعب بن مالک سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے نہیں آتے تھے مگر دن میں چاشت کے وقت اور جب آپ ﷺ تشریف لاتے تو مسجد سے آغاز فرماتے اس میں دو رکعت نماز پڑھتے پھر اس میں تشریف رکھتے۔ (مسلم) اور شرح منیہ میں ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سفر کی دو رکعت کو گھر میں پڑھنے اور سفر سے آنے کے بعد کی دو رکعتیں مسجد میں پڑھنے سے خاص ہیں۔ اور حضرات شوافع نے اس کی صراحت کی ہے۔ (بذل المجہود) 16قولہ: لما قدم المدينة نحر جزورا الخ (جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی) ملا علی قاری نے فرمایا سفر سے آنے والے کے لئے سنت ہے کہ وہ اپنی وسعت کے بقدر مہمانی کا انتظام کرے۔ (ابن ملک) 1؎ قوله: کتب الی قیصر الخ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ امام نووی نے کہا اس فرمان میں بہت سے اصول و قواعد اور طرح طرح کے فائدے ہیں منجملہ ان کے